تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 206 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 206

تاریخ احمدیت۔جلد 26 206 سال 1970ء مجھے ایک ماہ کی مہلت دیں۔میں نے کہا کیسے نہیں جمع ہوں گے جب اللہ تعالیٰ نے میرے منہ سے نکلوایا ہےتو اللہ تعالی ضرور اپنے فضل سے میری بات پوری کرے گا۔چنانچہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جب میں وہاں سے روانہ ہوا تو دس ساڑھے دس ہزار پونڈ نقد جمع ہو گیا تھا۔الحمد للہ علی ذالک۔میرا خیال تھا کہ بہت سے ایسے دوست ہیں کہ جو انتظار کر رہے ہیں کہ میں سپین سے واپس آؤں اور وہ میرے ہاتھ میں چیک دیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح شاید انہیں زیادہ ثواب مل جائے گا۔چنانچہ بہتوں نے بڑی قربانی کر کے دیئے بھی تھے۔اب بھی میں یہاں سے ایک خط کے ذریعہ سے تحریک کر رہا ہوں میرا خیال ہے کہ اب تک جو گیارہ ہزار سے اوپر نقد جمع ہو چکے ہیں وہ جلد از جلد میں ہزار پونڈ تک پہنچ جائیں تا کہ کسی سیج پر روک پیدا نہ ہو، یہاں سے تو ہم ایک پیسہ بھی باہر نہیں بھیج سکتے۔ہمیں حکومت فارن ایکسچینج نہیں دے رہی لیکن یہاں بھی بہت سارے کام ہیں مثلاً یہاں سے جو آدمی جائیں گے ان کے کرایہ وغیرہ پر خرچ ہوگا۔میرے خیال میں اگر سارے استاد اور ڈاکٹر چلے جائیں تو اس پر دواڑ ہائی لاکھ روپیہ خرچ ہو جائے گا۔بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ رقم Invest کر کے اس کی آمد سے خرچ کیا جائے۔یہ میری سکیم نہیں ہے۔یہ میرا وہ سرمایہ نہیں ہے جس کی آگے آمد سے افریقہ میں خرچ کرنا ہے بلکہ اس سارے سرمایہ کو لگا دینا ہے اور اگر میں ۴۰ ہیلتھ سنٹر کھولنے میں کامیاب ہو جاؤں اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے میرے ساتھ تعاون کرنے کی تو جو ہیلتھ سنٹرز کا تجربہ ہوا ہے اس کے مطابق ایک لاکھ پونڈ سالانہ کی Net Saving بھی ہو سکتی ہے اور اگر ہم اس سرمایہ کو Invest کر دیں گے تو ہمیں دس ہزار پونڈ سالانہ آمد ہوگی لیکن اگر ہم اس سرمایہ کے ذریعہ ہیلتھ سنٹر کھول لیتے ہیں تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے اللہ تعالیٰ اس میں دنیوی لحاظ سے بھی برکت ڈالے گا۔آپ اپنے پتے یہاں دے جائیں۔آپ میری ان باتوں سے سمجھ گئے ہوں گے کہ جس حد تک ممکن ہوسکتا ہے میں ڈاکٹروں پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کروں گا مثلاً اگر کسی کے حالات ایسے ہیں کہ وہ باہر نہیں جاسکتا اور اس نے ہمارے