تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 207
تاریخ احمدیت۔جلد 26 207 سال 1970 ء ساتھ پانچ سال کا معاہدہ کر رکھا ہے تو اگر مجھے اس کی ضرورت نہ پڑی تو نہیں بھیجوں گا اور اگر مجھے اس کی ضرورت پڑ گئی تو میں اس کو کہوں گا کہ معاہدے کی شق سے فائدہ اٹھاؤ کہ اگر بیچ میں چھوڑنا ہے تو اتنا ہر جانہ دیدو اور آزاد ہو جاؤ لیکن ایک حصہ بہر حال قربانی کا ہے اگر وہ قربانی نہ ہو تو آپ کو ثواب نہیں ملے گا۔میری یہ دعا ہے کہ آپ کو بھی دوسروں کے ساتھ بیحد ثواب ملے لیکن جو باتیں میں نے اخلاص اور دعا وغیرہ کے متعلق کہی ہیں آپ ان کا ضرور خیال رکھیں۔ہمارے میڈیکل ہیلتھ سنٹر کا جو ڈاکٹر ہے لوگ اس کو مبلغ بھی سمجھتے ہیں اور آپ کو وہاں جانے سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں اچھی طرح سے پڑھنی پڑیں گی۔مثلاً وہاں عیسائیت کے ساتھ مقابلہ ہے یا دہریت کے ساتھ مقابلہ ہے۔بعض ملکوں میں تو بڑی بھاری اکثریت مشرکوں کی ہے مثلاً لائبیریا ہے یہاں بہت سے مشرک پائے جاتے ہیں۔یہاں کے پریذیڈنٹ ٹب مین تھے، انہوں نے ہمیں سوا یکڑ زمین دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے ڈیڑھ سوا یکٹر زمین دینے کا حکم دیدیا ہے یعنی ڈیڑھ گنا زیادہ ، لائبیریا میں حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ۱۳ فیصدی عیسائی ہیں اور ۲۵ فیصدی مسلمان ہیں اور باقی ۶۲ فیصدی پیکن یعنی مشرک ہیں جو مختلف علاقوں میں مختلف قسم کی رسوم کے پابند ہیں۔وہاں کے مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ یہ اعلان غلط ہے ان کے خیال میں ۵۰ فیصد مسلمان ہیں اور ۱۳ فیصدی عیسائی اور باقی مشرک ہیں۔میں نے کہا کہ تمہیں حکومت کے خلاف کہنے کی کیا ضرورت ہے، تم کوشش کر کے ۲۵ فیصدی پیکن یعنی مشرکوں میں سے مسلمان بنا لو تو وہ اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے کہ مسلمان اکثریت میں ہو گئے ہیں اور احمدی اگر اتنے ہو جائیں تو غیر احمدی تو آپس کے جھگڑوں میں مبتلا ہیں وہ اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے لیکن اللہ تعالیٰ احمدی کو یہ توفیق دیتا ہے وہ دلیری کے ساتھ اپنے حقوق منوا لیتا ہے۔اور لوگ ان کے حقوق دیتے ہیں۔انہیں یہ سمجھ ہے کہ اگر احمدیوں کے حقوق مارے گئے تو ہمارے لئے مشکل پڑ جائے گی۔اگر ہم ایسے ملکوں میں مثلاً مشرکوں میں سے ۲۵ فیصدی احمدی کر لیتے ہیں تو پھر وہ ملک کی اکثریت ہونے کی وجہ سے حکومت میں اسی نسبت سے