تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 202 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 202

تاریخ احمدیت۔جلد 26 طبیب کو دعا گو ہونا چاہیے 202 سال 1970ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ بڑا ظالم ہے وہ طبیب جو اپنے مریض کے لئے دعا نہیں کرتا اور حقیقت یہی ہے۔اب ڈاکٹر عمر الدین صاحب نے لیگوس میں دو کلینک کھول لئے ہیں یعنی ایک تو انہوں نے کرنل یوسف والا کلینک سنبھالا تھا ان کی وفات کے بعد اور اب بالکل شہر کے سنٹر میں غریبوں کے محلے میں ایک اور کلینک کھولا ہے۔جہاں ساتھ ہی دو اور کلینک کھل گئے ہیں ایک تو کسی افریقن نے کھولا ہے اور دوسرا کسی غیر ملکی غالباً لبنانی نے کھولا ہے یہ ہفتے میں دو دفعہ اس کلینک میں جاتے ہیں ان کی رپورٹ تھی کہ دوسروں کے مقابلے میں ہمارا کلینک اللہ تعالیٰ کے فضل سے مقبول ہو رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ اتنا فضل کر رہا ہے اور اتنا پیار کرتا ہے جماعت سے کہ ہمیں انفرادی طور پر بھی ناشکرا بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے جماعت تو شکر گزار ہے لیکن کسی ایک فرد کو بھی ناشکرا بندہ نہیں بننا چاہیے ہمارے مالوں میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ۳۔” جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ گنتی کے چند آدمی بھی نہیں تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود ایک جگہ یہ تحریر فرمایا ہے کہ اس وقت جبکہ کسی ایک آدمی نے بھی میری بیعت نہیں کی تھی (البتہ میرے چند دوست تھے ) اس وقت مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی نذیرحسین صاحب دہلوی نے دو سو چوٹی کے مولویوں کو اپنے ساتھ ملا کر کفر کا فتویٰ دیا اور آپ کو واجب القتل ٹھہرایا اور لکھا کہ جو آپ کو قتل کر دے گا وہ ثواب کمائے گا۔اس فتویٰ نے ہندوستان میں ایک ہنگامہ بپا کر دیا اور لوگوں کو آپ کے خلاف بھڑ کا دیا۔اس وقت ان کے کفر کے فتووں نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا تو اب کیا پہنچا لیں گے۔ہم تو کفر کے فتووں کی بوچھاڑ میں کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔ساری دنیا میں اب احمدیت پھیل گئی۔یہ حماقت ہی ہے کہ کوئی یہ سمجھے کہ پاکستان میں احمدیوں کو قتل کر کے لوگ احمدیت کو مٹا سکتے ہیں۔یہ سمجھنا سراسر حماقت ہے کیونکہ احمدیت صرف پاکستان ہی