تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 186
تاریخ احمدیت۔جلد 26 186 سال 1970ء در مشین کو کثرت سے پڑھیں ، دعا کرنے کی عادت ڈالیں اور پکے اور بچے احمدی بن کر ہمیشہ رضائے الہی کے طالب رہیں۔آخر میں حضور نے جملہ اطفال وخدام سے مصافحہ فرمایا اور دانہ (صوبہ سرحد کے ضلع ہزارہ کی بستی جہاں حضرت مولانا سرور شاہ صاحب اپنے زمانہ طالبعلمی میں پڑھتے رہے ) کی مجلس کی نمائندگی نہ ہونے پر ہدایت فرمائی کہ دانہ کے سارے خدام سالانہ اجتماع پر ربوہ ضرور پہنچیں ، میں انہیں علیحدہ ملاقات کا موقع دوں گا۔۲۷ ستمبر۔حضرت اقدس نماز مغرب کے بعد احباب میں رونق افروز ہوئے۔چوہدری احمد جان صاحب اور ماسٹر عبدالرحمن صاحب خا کی چند دیگر مخلصین کے ساتھ حاضر تھے۔ماسٹر صاحب نے حضور کی خدمت بابرکت میں اپنی ایک فارسی نظم فریم کروا کر پیش کی جسے حضور نے قبول فرمایا نیز ان کی بیماری کے پیش نظر سویا بین مرحمت فرمائی اور بتایا کہ یہ گنٹھیا اور امراض قلب میں بڑی مفید ہے۔سونف کے متعلق اپنے ذاتی تجربہ کی بناء پر بتایا کہ سونف اور چینی ہم وزن لے کر خوب کھرل کر کے رات کو کھانے کے بعد استعمال کی جائے اللہ تعالیٰ کے فضل سے امراض چشم میں فائدہ بخش ہے۔۲۸ ستمبر۔نماز ظہر کے بعد حضور نے حضرت مسیح موعود کے صحابی حضرت میاں مولا بخش صاحب آف گوجرانوالہ کو شرف ملاقات بخشا اور نماز مغرب کے بعد بھی احباب میں رونق افروز رہے جس میں مقامی جماعت کے اکثر مخلص دوست حسب معمول موجود تھے۔حضور نے دورانِ گفتگو فرمایا ہمارے اکثر مخالفین سنی سنائی باتوں کی بناء پر اعتراض کر دیتے ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں اصل کتا بیں پڑھائیں اور ان پر حقیقت حال واضح کریں۔۲۹ ستمبر۔حضور کے اس بابرکت سفر کا آج آخری دن تھا۔ربوہ کے لئے واپسی کی تیاری ہو رہی تھی۔فضا اداس اور مقامی احباب کے چہرے اپنے پیارے آقا کی جدائی کے احساس میں مغموم تھے۔حضور نے احباب سے مختلف موضوعات پر گفتگو فرماتے ہوئے اپنے انمول ارشادات اور مواعظ حسنہ سے سرفراز فرمایا۔اس موقعہ پر مقامی جماعت کے علاوہ مانسہرہ ، پھگلہ اور کئی دوسری جماعتوں سے بھی احباب کثرت سے آئے ہوئے تھے۔حضور نے فرمایا شاید صبح احباب کے لئے آنا دشوار ہو اس لئے اسی وقت میں دعا کر وا دیتا ہوں۔چنانچہ حضور نے اجتماعی دعا کرائی اور احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔۳۰ ستمبر - صبح سوا سات بجے حضور کا مبارک قافلہ اجتماعی دعا کے بعد ربوہ کے لئے روانہ ہوا۔ایبٹ آباد، مانسہرہ، پھگلہ اور کئی دوسری جماعتوں کے احباب نے اپنے مقدس آقا کو دعاؤں کے