تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 9
تاریخ احمدیت۔جلد 26 9 سال 1970 ء تقاریر کا سلسلہ زوروشور سے شروع ہو گیا۔اور جماعت کے ہر حلقے میں حصولِ علم کا ایک نیا جذبہ اور ذوق اور شوق دیکھنے میں آنے لگا۔دورانِ سال مرکزی طور پر منعقد ہونے والی مجالس ارشاد کی مختصر روداد درج ذیل ہے۔مرکز میں علمی تقاریر مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۷۰ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب مسجد مبارک ربوہ میں مجلس ارشاد مرکزیہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس حسب پروگرام حضور انور کی صدارت میں شروع ہونا تھا لیکن حضور علالت طبع کے باعث تشریف نہیں لا سکے۔حضور کے ارشاد کی تعمیل میں صدارت کے فرائض محترم جناب مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعت احمد یہ سابق صوبہ پنجاب و بہاولپور نے ادا فرمائے۔اس اجلاس میں مکرم کمال یوسف صاحب مبلغ سکنڈے نیویا نے کفن مسیح کے موضوع پر ، کرم نسیم سیفی صاحب نائب وكيل التبشیر نے بیت المقدس کی مسجد اقصیٰ اور اس کی تاریخ کے موضوع پر اور مکرم فضل الہی صاحب بشیر سابق مبلغ مشرقی افریقہ و ماریشس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ کے موضوع پر اپنے ٹھوس اور پر مغز مقالے پیش کئے۔صاحب صدر کے صدارتی ریمارکس کے بعد اجلاس دعا پر اختتام پذیر ہوا۔اجلاس میں اہل ربوہ بہت کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔سرگودہا اور لاہور کے بعض احباب نے بھی اس موقع پر ربوہ تشریف لا کر اجلاس میں شرکت کی۔حضور انور کا مجلس ارشاد کے اجلاس میں بصیرت افروز خطاب ۱۳ جون ۱۹۷۰ء کو مجلس ارشاد کا دوسرا اجلاس ہوا جس میں پروفیسر سید محمود احمد صاحب ناصر نے کلیسیا کی طاقت کا نسخہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کے موضوع پر اور ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ نے اسلام میں اجتہاد اور اس کی شرائط کے موضوع پر اور مسعود احمد خان صاحب دہلوی اسٹنٹ ایڈیٹر افضل و مدیر رسالہ انصار اللہ نے اسلام کے دور اول میں منافقین کے فتنے از روئے قرآن مجید کے موضوع پر تقاریر کیں۔ان تقاریر کے بعد سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں پر زور الفاظ میں یہ تحریک فرمائی کہ:۔”ہمارے علم کی بنیا د قرآن کریم کی اس تفسیر پر ہونی چاہیے جو حضرت مسیح