تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 172 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 172

تاریخ احمدیت۔جلد 26 172 سال 1970ء ایمان افروز مجلس سے مستفید ہوئے۔اس کے بعد حضور نے باری باری ہر ایک دوست کو شرف مصافحہ بخشا اور پھر مردان کی جماعت کے دوستوں کے ساتھ حضور کا گروپ فوٹو لیا گیا۔حضور نے ارشاد فرمایا که دوست پہلے کھانا کھا لیں پھر نماز پڑھیں گے۔یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ حضور کی زیارت اور ملاقات کے لئے باہر سے تشریف لانے والے دوستوں کے لئے چائے اور پھر دو پہر کے کھانے کا تسلی بخش انتظام کیا جاتا تھا۔۲۱ جولائی کو مولانا ابوالعطاء صاحب، مولوی ابوالمنیر نورالحق صاحب اور شیخ محبوب عالم صاحب خالد ناظر بیت المال بھی حاضر تھے۔حضور دیر تک سوات کے بعض قابل دید اور صحت افزاء مقامات کی سیر و سیاحت اور اس سلسلہ میں بعض ضروری سہولتوں نیز وہاں کے بڑے ہی دلچسپ تمدنی ، معاشرتی ، سیاسی اور انتظامی حالات پر بھی اظہار خیال فرماتے رہے۔۲۲ جولائی۔پانچ بجے شام مولانا محمد یعقوب خان صاحب حضور سے ملاقات کے لئے تشریف لائے۔حضور انہیں مغربی افریقہ اور یورپ کے بعض دوسرے ملکوں کے حالیہ دورہ کے بارے میں غیر ملکی پر لیس کے تاثرات پر مشتمل اخباری تراشے دکھاتے رہے۔نماز مغرب کے بعد حضور تھوڑی دیر احباب میں تشریف فرمار ہے۔اس موقعہ پر فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیدا کردہ لٹریچر سے اسلامی مسائل کے متعلق پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں کیونکہ آپ نے ہر قسم کی پیچیدگیوں اور الجھنوں کو نہایت حسین پیرایہ میں سلجھا کر رکھ دیا ہے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے متعلق اولیاء اللہ کے بعض رؤیا اور کشوف کا بھی ذکر فرمایا۔۲۳ جولائی۔بعد نماز مغرب مجلس علم و عرفان میں حضور نے جانوروں مثلاً ہرن اور گھوڑے وغیرہ کی سمجھ اور خود حفاظتی کی بعض مثالیں بیان فرمائیں۔فرقان فورس کے ذکر پر آپ نے تفصیل سے بتایا کہ بے سروسامانی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ہم سے وہاں کس طرح کام لیا اور پھر قدم قدم پر ہمیں اپنی حفظ و امان کے سایہ میں رکھا۔۲۴ جولائی۔حضور صبح پونے بارہ بجے ایبٹ آباد سے راولپنڈی پہنچے اور میجر سید مقبول احمد صاحب کے مکان بیت السلام میں قیام فرمایا۔بعد ازاں احمدیہ بیت نور تشریف لے گئے اور خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ تمام انسانوں کو وحدت میں منسلک کرنے اور انہیں زندہ خدا سے روشناس کرانے کا