تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 170 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 170

تاریخ احمدیت۔جلد 26 170 سال 1970ء گا۔چنانچہ وہ بتایا کرتے کہ اس کے بعد نہ صرف یہ کہ سانپ کے خوف کا احساس جاتا رہا بلکہ جب کبھی کوئی سانپ انہیں نظر آتا وہ انہیں دیکھ کر بھاگ جاتا۔حضور نے یہ ایمان افروز واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فدائیوں اور آپ سے محبت رکھنے والے متبعین کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی یہ بشارت ہے کہ نہ صرف ان کے نفوس میں برکت ڈالی جائے گی بلکہ جس چیز کو وہ چھوئیں گے وہ بھی بابرکت ہو جائے گی۔اسی برکت کی ہمیں بھی تلاش کرنی چاہیے۔۱۹ جولائی۔آج حضور سے انفرادی اور اجتماعی ملاقات کی سعادت پانے کے لئے دور و نزدیک سے کثیر تعداد میں احباب جماعت تشریف لائے۔حضور نے پہلے پشاور، لاہور، راولپنڈی، ہری پور، ٹیکسلا اور دوسری جماعتوں کے بہت سے احباب کو انفرادی ملاقات کا موقع عطا فر مایا اور اس کے بعد مردان اور ٹیکسلا کے قریباً ۸۰ مخلصین جماعت کو اجتماعی ملاقات اور اپنے بیش قیمت ارشادات سے نوازا۔مردان کے دوست اپنے امیر آدم خان صاحب کی قیادت میں پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ایک سپیشل بس کے ذریعہ ایبٹ آباد پہنچے تھے۔حضور انفرادی ملاقاتوں کے بعد باہر تشریف لائے تو اپنے پیارے آقا کی عقیدت اور محبت میں سرشار تمام احباب احتراماً کھڑے ہو گئے۔آدم خان صاحب امیر جماعت احمد یہ مردان نے آگے بڑھ کر حضور سے مصافحہ کیا۔اس کے بعد حضور قریباً ایک گھنٹے تک تشریف فرما رہے۔حضور نے بعض دوستوں کے حالات دریافت فرمائے۔چند دوستوں نے اپنی مشکلات بیان کیں۔حضور نے ان کے لئے دعا کی۔بعض بیمار تھے ان کے لئے آپ نے علاج تجویز فرمایا اور یہ نصیحت فرمائی کہ صرف علاج پر تکیہ نہیں کرنا بلکہ اس یقین کے ساتھ دوا کو استعمال کرنا ہے کہ شفا تو دراصل اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے جب تک شافی مطلق کا حکم نازل نہیں ہوتا کوئی دوا کارگر نہیں ہوتی۔اس لئے دوا کے ساتھ دعا کو نہیں بھولنا چاہیے۔مردان سے دو تین غیر از جماعت دوست بھی تشریف لائے ہوئے تھے جو کئی سال سے سلسلہ کا لٹریچر پڑھ رہے تھے مگر ابھی تک انہیں انشراح صدر نہیں ہوا تھا۔فرمایا۔انشراح تو اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کا دل مثالی رنگ میں اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے جدھر چاہے اور جس طرح چاہے اسے پھیر دے۔پس اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ انشراح صدر اور حق کو قبول کرنے کی توفیق بخشے۔کیونکہ اس کا انحصار