تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 169 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 169

تاریخ احمدیت۔جلد 26 169 سال 1970ء بعد حضور نے انہیں شرف مصافحہ بخشا۔ے جولائی۔کو حضور نے نماز جمعہ اپنی قیامگاہ پر پڑھائی اور خطبہ جمعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض و غایت کو نہایت بصیرت افروز پیرایہ میں بیان کرتے ہوئے وقف زندگی کے مختلف شعبوں کی اہمیت وضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔نیز نظام وقف کی دائی ضرورتوں کے پیش نظر جماعت کو خاص طور پر متوجہ کیا کہ غریب، متوسط اور امیر گھرانوں کے ذہین مخلص اور سعید الفطرت طلباء جامعہ احمدیہ میں آنے چاہئیں اسی سے جماعت کی بڑھتی ہوئی تبلیغی اور تربیتی اغراض کما حقہ پوری کی جاسکتی ہیں۔۱۸ جولائی۔نماز ظہر کے بعد ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ مغربی افریقہ کے تاریخی اور نہایت درجہ کامیاب تبلیغی دورہ کی رپورٹ کتابی صورت میں جلد شائع ہونی چاہیے۔حضور اس کی ترتیب و تدوین اور اشاعت کے بعض عملی پہلوؤں پر اظہار خیال فرماتے رہے۔اس روز چوہدری صلاح الدین صاحب ناظم جائیداد، ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ اور سید اعجاز احمد صاحب مربی سلسلہ راولپنڈی نے بھی حضور کی زیارت کی۔سید میر داؤ د احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمد یہ چند دن پہلے سے یہاں موجود تھے۔علاوہ ازیں ۱۷ جولائی کی شام کو مجلس انصار الله ومجلس خدام الاحمدیہ فیصل آباد کے سرکردہ ارکان (میاں غلام احمد صاحب، چوہدری احمد دین صاحب، سعید احمد صاحب ناصر، شیخ خالد مسعود صاحب اور مقصود احمد صاحب) نے نماز مغرب وعشاء کے بعد شرف ملاقات حاصل کیا۔اور صبح کو حضور کی خدمت میں واپسی کی اجازت کے لئے حاضر ہوئے۔حضور نے از راہ شفقت اور ذرہ نوازی فرمایا آپ یہاں مہمان ہیں دو ایک دن اور ٹھہریں۔حضور کی اس درجہ شفقت سے ان خدام کے دل باغ باغ ہو گئے۔اس روز حضور دیر تک نماز مغرب وعشاء کے بعد احباب میں تشریف فرما ر ہے۔دوران گفتگو حضور نے تلونڈی جھنگلاں ضلع گورداسپور کے ایک بزرگ کا تذکرہ فرمایا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ان کی حالت یہ تھی کہ جب کسی سانپ کو دیکھ لیتے تو اس کا خوف ہر وقت ان کے ذہن پر سوار رہتا تھا۔ایک دفعہ انہیں ان کے رشتہ داروں نے اپنے کسی جھگڑے کا تصفیہ کروانے کے لئے سندھ کے ایک ایسے علاقے میں بلایا جہاں سانپ بڑی کثرت سے ہوتے ہیں اس پر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی یہ کیفیت بیان کی۔حضور نے دعا کی اور فرمایا اب سانپ آپ کو کچھ نہیں کہے