تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 168 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 168

تاریخ احمدیت۔جلد 26 168 سال 1970ء نے ان سے کہا ہے کہ جو کام وہاں کرتی تھیں وہ یہاں بھی کریں چنانچہ اس وقت جو مستورات آپ کے ساتھ آئی ہوئی ہیں ان سے وہی ملاقات کر رہی ہیں۔فرمایا کہ اگرچہ مجھے ڈاکٹری مشورہ تو یہ تھا کہ میری صحت سفر کرنے کے قابل نہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ پانچ چھ ہفتہ کے اس دورہ میں میری صحت ٹھیک رہی۔ایک دن بھی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں پڑی۔ویسے پہلے چار ملکوں میں ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب اور پھر ڈاکٹر سعید احمد صاحب آن ڈیوٹی رہے اور بڑے اخلاص سے خدمت کرتے رہے۔آخر میں حضور نے سب احباب کو پُر زور تحریک فرمائی کہ جماعتی ضرورتوں کے پیش نظر مالی اور جانی جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔۱۵ جولائی۔نماز مغرب کے بعد حضور احباب میں رونق افروز ہوئے اور فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی بڑی عجیب اور زمانہ کی ضروریات کے مطابق تفسیر کی ہے مثلاً یہ کہ ہر مخلوق جو ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے بے شمار جلوے کارفرما ہیں اور پھر ہر خلق میں نئے جلوے جذب کرنے کی تاثیر پائی جاتی ہے۔فرمایا یہ سارا کارخانہ عالم اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سہارے رواں دواں ہے مگر پھر بھی لوگ اس عظیم ہستی کو بھول جاتے ہیں۔فرمایا۔دو تین سال ہوئے ہمارے ایک مبلغ (مولوی عبدالکریم صاحب شاہد کا ٹھگڑ ی مربی سلسلہ احمدیہ مراد ہیں) کو دماغ کے کینسر کا عارضہ لاحق ہوا۔تکلیف شدت اختیار کر گئی تو آپریشن کروانے کے لئے انہیں لاہور لے گئے۔میں نے ہدایت کی کہ ان کے علاج پر جتنا خرچ ہوتا ہے کریں مگر آپریشن نہ کرائیں بعد میں ڈاکٹروں نے کہا کہ مرض سارے دماغ میں پھیل چکا ہے اس لئے آپریشن ناممکن ہے۔اس اثنا میں ان پر بے ہوشی کی حالت طاری ہو چکی تھی۔بینائی ، شنوائی حتی کہ گویائی تک سلب ہو چکی تھی۔مگر خدا کی قدرت کہ ساتویں دن انہوں نے آنکھیں کھولیں۔نظر بھی آ رہا تھا، شنوائی بھی عود کر آئی، زبان بھی چلنے لگی۔جسے ڈاکٹر آٹھ دس دن کا مہمان سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ کا یہ معجزہ ہے کہ وہ پھر سے تبلیغی اور تربیتی میدان میں سرگرم عمل ہے۔فرمایا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ ایک انفرادی حکم علیحدہ طور پر بھی آسمان سے نازل ہوتا ہے کیونکہ وہ ساری قدرتوں کا مالک ہے۔۱۶ جولائی۔چوہدری احمد جان صاحب امیر جماعت راولپنڈی اور چوہدری عبدالحق صاحب ورک امیر جماعت احمد یہ اسلام آباد چند دیگر احباب کے ساتھ تشریف لائے۔نماز مغرب وعشاء کے