تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 166
تاریخ احمدیت۔جلد 26 166 سال 1970ء ضروری سہولتیں بہم پہنچا کر عملاً تعاون کر رہی ہیں۔پھر فرمایا کہ انسانی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ محبت اور پیار کا یہ پیغام نہ پہلے بھی نا کام ہوا ہے اور نہ آئندہ انشاء اللہ نا کام ہوگا۔اس لئے ہم بہر حال جیتیں گے البتہ ہماری دعا ہمیشہ وہی ہونی چاہیے جو قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے کہلوائی گئی ہے کہ رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرِ فَقِيرٌ ، (القصص:۲۵) یہ بڑی پیاری دعا ہے اس میں خیر یعنی بھلائی کو کسی خاص رنگ میں یا کسی معین مطالبہ کی صورت میں پیش نہیں کیا گیا۔اس لئے ہماری بھی یہی دعا ہونی چاہیے کہ جس چیز میں ہمارے لئے خیر ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے وہ ہمیں عطا فرمائے۔دنیا کی مخالفت کی پروا نہیں کرنی چاہیے ان کی مخالفت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی۔کیونکہ دلوں کو جیتنے کے لئے دلائل ان کے پاس نہیں۔آسمانی نشانوں کے نزول کے دروازے انہوں نے خود اپنے اوپر بند کر رکھے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کی اتباع میں انسانیت کی خدمت اور پیار و محبت سے ان کے دل جیتنے کی انہیں تو فیق نہیں۔یہ شرف اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کو عطا فرمایا ہے۔اس لحاظ سے ہم پر بہت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔۹ جولائی۔نماز مغرب کے بعد حضور نے مغربی افریقہ میں احمدی سکولوں کی مثالی کیفیت اور افریقن حکومتوں کی ان کی طرف خصوصی توجہ پر روشنی ڈالی اور اس سلسلہ میں جماعتی سکیموں کا خیر مقدم کرنے اور عملی تعاون کی متعدد مثالیں دے کر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہاں اسلام کے غلبہ کے آثار روز بروز نمایاں تر ہو رہے ہیں اس ضمن میں یہ حقیقت بھی واضح فرمائی کہ اسلام نے جس حکیمانہ رنگ میں ہر فرد کی ضروریات کی حقیقی تعریف اور اس کے حقوق کی صحیح تعیین فرمائی ہے وہاں سوشلزم کا تخیل بھی نہیں پہنچتا۔۱۰ جولائی۔حضور نے اس روز اسلام آباد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں مغربی افریقہ کے باشندوں کی سماجی ، معاشرتی اور مذہبی خصوصیات بیان کرتے ہوئے ان کی ذاتی شرافت اور فطری سعادت اور سادہ مزاجی پر نہایت شرح وبسط سے روشنی ڈالی اور فرمایا یہ اقوام صدیوں سے استعماری ظلم کا شکار اور یوروپین اقوام کی لوٹ کھسوٹ کا نشانہ بن رہی ہیں اب وہ وقت انشاء اللہ دور نہیں جب انہیں پتہ لگے گا کہ افریقن دین و دنیا کے ہر میدان میں ان کے استاد بننے کے اہل ہیں اور اس طرح دنیا میں پھر وہی حسین معاشرہ قائم ہوگا جس کی بنیاد آج سے چودہ سو سال پہلے ہادی اکمل حضرت