تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 153
تاریخ احمدیت۔جلد 26 153 سال 1970ء ساتھ باجماعت نماز ادا کرنا چاہتا ہوں لیکن ان سب کا رویہ بھی معاندانہ اور منتشد دانہ تھا۔اور وہ اس بات پر مصر رہے کہ میں وہاں سے فوراً چلا جاؤں۔چارونا چار بہت بوجھل قدموں کے ساتھ میں وہاں سے چل پڑا۔میں یہ بات ایک دفعہ پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان ایام میں میری ذہنی صلاحیتیں پوری بحالی کی حالت میں نہ تھیں۔میں نے حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی کتاب ”کشتی نوح پڑھی تو تھی لیکن اس کے اکثر حصوں کو میں سمجھ نہیں پایا تھا تاہم اتنا احساس مجھے ضرور تھا کہ یہ کسی بہت ہی مقدس اور برگزیدہ انسان کی لکھی ہوئی کتاب ہے جب میں کرسی پر بیٹھا اسے پڑھ رہا ہوتا تھا تو مجھے یوں محسوس ہوتا کہ جیسے فرشتوں نے کرسی کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ویسے میں اس روحانی تجربہ کی ماہیت اور کتاب کی اہمیت کے صحیح ادراک سے قاصر تھا۔اُس وقت تک میں حضرت مسیح موعود کی تعلیم سے بھی واقف نہ تھا۔بس ایک ہی شدید خواہش میرے اندر موجزن تھی کہ کسی طرح میرے گناہ دھل جائیں اور میں ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک ہو جاؤں۔جب مراکش کی سرحد کے قریب بعض ہٹ دھرم لوگوں نے مجھے مسجد سے نکال باہر کیا اور میں ذرا آگے گیا تو مجھے دس بارہ بچے نظر آئے ، وہ ادھر ادھر بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے تھے اور با ہم کھیل کو درہے تھے۔میں کھڑا ہو کر انہیں دیکھنے لگا۔وہ میرے گرد آ جمع ہوئے۔وہ مسلمان بچے تھے اور عربی بول رہے تھے۔میں عربی نہ جاننے کی وجہ سے ان کے ساتھ باتیں تو نہ کر سکتا تھا البتہ میں نے بلند آواز میں سورۃ الفاتحہ پڑھنی شروع کر دی انہوں نے بھی جواباً سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کی۔ان میں ایک بچہ اس قدر خوش الحان تھا کہ اس کی تلاوت کا میرے دل پر بہت اثر ہوا اور میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔اسی دوران مجھے خیال آیا کہ یہ میری بہت بڑی غلطی تھی کہ میں اپنی والدہ کو بتائے بغیر چپکے سے گھر سے کھسک آیا ہوں۔میرے دل نے کہا کہ خدا مجھے حج کی سعادت سے بہرہ ور ہونے کی توفیق اس وقت تک نہیں دے گا جب تک کہ میں اپنی اس غلطی کی تلافی کے رنگ میں واپس جا کر ان معاملات کو حل نہیں کرلوں گا جنہیں میں اپنے پیچھے جرمنی میں معلق چھوڑ آیا ہوں۔سپین سے جرمنی واپس آنے کے لئے میں نے کیا پاپڑ بیلے اور مجھے کن مشکلات میں سے گزرنا پڑا ان کی تفصیل تو بہت لمبی ہے اور ان کا بیان کرنا ہے بھی لاحاصل، اس لئے میں صرف یہ بتانے پر ہی اکتفا کروں گا کہ میں کسی نہ کسی طرح سفر کی منزلیں طے کرتا ہوا بد قت تمام سپین کے شہر غرناطہ جا پہنچا