تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 151
تاریخ احمدیت۔جلد 26 151 سال 1970ء کیا کہ وہ سحر و افطار کا نظام الاوقات اور رمضان سے متعلقہ جملہ معلومات فوری طور پر ارسال کر دیں گے۔چنانچہ میں نے ان کی فراہم کردہ ہدایات کے مطابق روزے رکھنے شروع کر دئے۔کچھ دنوں کے بعد میں مسجد گیا۔امام مسجد مکرم مسعود احمد صاحب جہلمی نے مجھے صمیم قلب سے خوش آمدید کہا۔انہوں نے دوران گفتگو اسلامی تعلیم کے محاسن بیان کرنے کے علاوہ مجھے حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تصنیف کشتی نوح کا جرمن ترجمہ مطالعہ کے لئے عنایت فرمایا نیز انہوں نے اس امر کی بھی ترغیب دلائی کہ میں جماعت کے شائع کردہ جرمن ترجمہ قرآن کا ایک نسخہ خریدلوں اور اس کا مطالعہ کروں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ جو ترجمہ قرآن پہلے سے میرے پاس موجود ہے وہ مفاہیم اور مطالب کے اعتبار سے درست نہیں ہے۔میں نے جرمن ترجمہ قرآن کے علاوہ نماز کی کتاب بھی خرید لی اور پھر نماز کے عربی الفاظ یاد کرنے اور صحیح طریق پر نماز ادا کرنے میں مصروف ہو گیا۔جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں اس زمانہ میں میں ان گناہوں کی وجہ سے جو مجھ سے سرزد ہو چکے تھے ذہنی طور پر بہت پریشان تھا اور عجب خلجان اور بے چینی و اضطراب کی حالت میں سے گزر رہا تھا۔سو جب رمضان کا مہینہ ختم ہوا تو میں نے سوچا کہ بہتر یہ ہے کہ میں مکہ جا کر حج کا فریضہ ادا کروں، اس خیال اور ارادہ کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ بات میرے دل میں جاگزیں ہوگئی تھی کہ میرا آخری وقت اب قریب ہے۔اس لئے میں گناہوں کی جواب طلبی کے خوف سے ہر وقت لرزاں وتر ساں رہتا تھا۔حج کرنے کا خیال مجھ پر کچھ ایسا غالب آیا کہ ایک روز میں نے روانہ ہونے کی ٹھان ہی لی۔کیا میں نے یہ کہ جو معمولی سی رقم میرے پاس تھی وہ گرہ میں باندھی ، کھانے پینے کی کچھ اشیاء ساتھ لیں اور مختصر سا بستر (Sleeping Bag) رکھا کندھے پر اور والدہ کو بتائے بغیر گھر سے نکل کھڑا ہوا۔میں بیگانی موٹر کاروں میں لفٹ لیتا یعنی خیراتی سفر کی سہولت سے فائدہ اٹھاتا ہوا دمڑی خرچ کئے بغیر سپین جا پہنچا۔دماغ میں منصوبہ یہ تھا کہ پین پہنچنے کے بعد درمیان میں حائل انتہائی تنگ سمندری پٹی عبور کر کے پہلے مراکش جاؤں گا اور پھر افریقہ کے شمالی ساحل کے ساتھ ساتھ سفر کرتا ہوا کبھی نہ کبھی عرب کی سرزمین میں جاوارد ہوں گا۔منصوبہ کیا تھا خیالی پلاؤ کے طور پر ایک بچگانہ خیال تھا جو دل میں سمایا ہوا تھا۔مراکش کے ساحلی شہر سیوطہ (Ceuta) میں تو کسی خاص رکاوٹ کے بغیر جاداخل ہوا۔یہ شہر اگر چہ واقع تو مراکش کے ساحل پر ہے لیکن قبضہ اس پر سپین کا ہے اور یہ پین ہی کا شہر شمار ہوتا ہے۔افریقہ کے شمال مغربی کونہ کے جس حصہ میں یہ شہر واقع ہے وہاں مراکش کی سرحد شہر ختم ہونے کے بعد شروع