تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 150
تاریخ احمدیت۔جلد 26 150 سال 1970ء بطور تحفہ مجھے دیا تھا۔اس نسخہ پر نظر پڑتے ہی میرا ہاتھ وہیں رک گیا۔دل نے گواہی دی یہی وہ کتاب ہے جس میں نور کی لکیر اور اس سے نکلنے والی شعائیں مدغم ہوئی ہیں۔میں نے اس کتاب کو کھول کر پڑھنا شروع کیا۔ابھی چند سطریں ہی پڑھی تھیں کہ یہ بات میرے دل میں شیخ کی طرح گڑ گئی کہ یہ کتاب آسمانی صداقتوں سے پر ہے۔میرے لئے دل ہی دل میں اس امر کے اقرار کے سوا چارہ نہ رہا کہ اس کتاب کی صداقت پر ایمان لانے کے بعد اب میں ایک مسلمان ہوں۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جب میرے چچانے مجھے یہ تحفہ دیا تھا تو میں نے ایک نگاہ اسے دیکھا ضرور تھا۔اس کے بعد یہ بات میرے ذہن سے کلیہ نکل گئی تھی کہ میری کتابوں میں یہ کتاب بھی موجود ہے۔ہر چند کہ اسلام کے متعلق میرا علم نہ ہونے کے برابر تھا تا ہم قرآن مجید کی جو چند سطریں اس وقت میں نے پڑھیں انہوں نے میرے دل پر ایسا زبردست اثر کیا کہ میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اب میرے لئے اس کے سوا کوئی راہ باقی نہیں ہے کہ میں اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دوں۔حالت میری یہ تھی کہ میں برملا یہ اعلان کرنے پر آمادہ تھا اور اس امر کے باوجود آمادہ تھا کہ میں اس اعلان کے مالہ وما علیہ سے قطع نا آشنا تھا اور یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے مجھے کیا مذہبی فرائض بجالانے ہوں گے اور یہ کہ مجھے اب کیا کرنا چاہیے کہ میں اس سمت میں قدم بڑھا سکوں۔اُس زمانہ میں میں ذہنی طور پر بہت پریشان تھا اور اپنی والدہ کے ہاں بہت خاموشی سے زندگی بسر کر رہا تھا۔والدہ کے اس مکان کے ایک کمرے میں ہی قرآن مجید کے ساتھ میرا ربط قائم ہوا تھا۔ایک دن میں نے اخبار میں پڑھا کہ مسلمانوں کا روزوں کا مہینہ یعنی ماہ رمضان شروع ہو گیا ہے۔اس خبر کو پڑھتے ہی مجھے خیال آیا کہ جب میں اپنے طور پر مسلمان ہو چکا ہوں تو پھر مجھے روزے رکھنے چاہئیں۔چونکہ مجھے علم نہ تھا کہ روزہ رکھنے کا طریق کیا ہے اور یہ کہ رمضان میں کن باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے اس لئے اس امر کی شدید ضرورت محسوس ہوئی کہ میں کسی مسجد سے رابطہ قائم کروں۔اس کی خاطر میں نے ٹیلیفون ڈائریکٹری کی ورق گردانی کر کے متعدد اسلامی ملکوں کے قونصل خانوں کے ٹیلیفون نمبر ز نکالے اور پھر باری باری ان سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا فرینکفرٹ میں کوئی مسجد ہے اور اگر ہے تو کہاں واقع ہے۔آخر کار قسمت نے یاوری کی اور وہ اس طرح کہ لبنانی قونصل نے مجھے فرینکفرٹ میں احمدی مسلمانوں کی مسجد یعنی مسجد نور کی موجودگی سے آگاہ کیا۔میں نے فوراً ہی امام مسجد نور کو فون کیا۔وہ بہت شفقت سے پیش آئے انہوں نے میرا پتہ نوٹ کرنے کے بعد وعدہ