تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 149
تاریخ احمدیت۔جلد 26 149 سال 1970ء وو سے دو چار ہونا پڑا۔ایک لمبے اور تھکا دینے والے سفر کے بعد بالآخر میں جرمنی میں اپنے آبائی شہر فرینکفرٹ واپس پہنچا۔واپس آکر میں پتیوں سے جن کا ایک ساتھی مجھے سمجھا جاتا تھا کوئی راہ و رسم رکھنا نہیں چاہتا تھا۔چنانچہ میں ان سے دور ہی رہا گو ظاہری حالت میری پتیوں والی ہی تھی۔انہی ایام میں مجھے ایک دوست کے فلیٹ میں جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں مجھے یوگا پر ایک کتاب ملی۔ذہنی تربیت کے اس مسلک کے متعلق میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اسے اختیار کرنا مناسب رہے گا۔چنانچہ چند ہفتے میں اس مسلک کے طریقوں کو آزمانے کی کوشش کرتا رہا۔مجھے توجہ مرکوز کرنے اور توجہ کو پُرکشش قوت سے ہمکنار کرنے کی مشق کے لئے ایک ایسا تصویری فریم دیا گیا جس کے اندر ایک گول دائرہ بنا ہوا تھا اور دائرے میں مختلف تصاویر سی بنی ہوئی تھیں۔یہ تصویری فریم منڈالا (Mandala) کہلاتا تھا۔میں نے توجہ مرکوز کرنے کی مشق کے علاوہ بعض دوسرے مسلکوں کے طور طریق بھی آزمائے۔اسی ضمن میں ایک دن میں اپنے بستر پر بیٹھا ایک خاص انداز سے سانس لینے کی مشق کر رہا تھا اور اس عمل کے دوران موسیقی کا ایک کیسٹ بھی سن رہا تھا۔یہی وہ واحد موسیقی تھی جس سے محظوظ ہونا ان دنوں مجھے بے حد مرغوب تھا اس سارے عمل کو ایک پاکستانی موسیقار نے جو کچھ عرصہ قبل لندن آیا تھا پاکستانی محفلِ روحانیہ“ کا ایک حصہ قرار دیا تھا۔ایک خاص انداز سے سانس لینے کی مشق کے دوران اچانک میری نظر دیوار کے ساتھ لٹکے ہوئے خطاطی کے ایک فریم پر پڑی، اس پر ”اوم“ کا لفظ لکھا ہوا تھا۔یہ ہندی کا ایک لفظ ہے جو مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے ایک معنی اس کا ہے "احد"۔نیز یہ لفظ ہمہ گیر کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور خدا کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔اس پر نظر پڑتے ہی مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے روشنی کی ایک دھار اس میں سے پھوٹ نکلی ہے اور وہ میری لائبریری کی الماری کی سمت میں جارہی ہے جو میری پشت کی جانب دیوار سے لگی ہوئی تھی۔اُسی لمحہ تفہیم کے طور پر دل میں یہ بات آئی کہ روشنی کی جو لکیر نمودار ہوئی ہے وہ راہنمائی کے رنگ میں میری توجہ کسی خاص چیز کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہے۔میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور میری نگاہیں نور کی اس لکیر کا تعاقب کرنے لگیں۔میں نے دیکھا کہ نور کی اس لکیر سے نکلنے والی شعائیں الماری میں رکھی ہوئی کسی ایک کتاب پر مرکوز ہو کر اسی میں مدغم ہو گئی ہیں۔کتا بیں بڑی بے ترتیبی سے الماری کے ایک خانہ میں لگی ہوئی تھیں۔میں لپک کر الماری کی طرف بڑھا اور ایک ایک کتاب کے نام پر نظر ڈالی۔اسی تلاش کے دوران میری نظر جرمن ترجمہ قرآن کے ایک نسخہ پر پڑی۔یہ نسخہ میرے ایک چانے بہت پہلے کرسمس کے موقع پر