تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 147 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 147

تاریخ احمدیت۔جلد 26 147 سال 1970ء لیکن ان کے قول وفعل میں تضاد دیکھ کر بعد ازاں میں نے اس تحریک سے کنارہ کشی اختیار کر لی لیکن ہوا یہ کہ اس سے منہ موڑنے کے بعد میں بہتی تحریک کے چنگل میں جا پھنسا۔یہ تحریک اندھی محبت اور بے لگام قسم کے ذہنی تجربات کے ذریعہ امن و سکینت کے حصول کی داعی تھی۔لیکن فی الاصل یہ ایک مکروہ تحریک تھی جس نے نوجوانوں کو منشیات کی لعنت میں مبتلا کر کے جائز روابط کو منضبط کرنے والی حدود و قیود کو پامال کر کے رکھ دیا۔مجھ میں شعر گوئی کا ملکہ شروع ہی سے موجود تھا۔میں اکثر نظمیں کہا کرتا تھا جو بہت پسند کی جاتی تھیں۔میرا مجموعہ کلام جر منی کے ایک مشہور پبلشنگ ادارہ نے شائع کیا۔اس مجموعہ کلام کی اشاعت پر بالعموم اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ ہیوبش ایک ایسا اُبھرتا ہوا شاعر ہے جس سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔اس طرح نوجوان نسل کا ایک نام نہاد لیڈر بننے کے باوجود جرمن نو جوانوں کے مشاغل میرے لئے اطمینان و سکینت کا موجب نہ بن سکے اور اردگرد کی مادی سوسائٹی میں مجھے کہیں تسکین نہ مل سکی۔منشیات کی لعنت کے تباہ کن تجربہ میں سے گذرنے اور دنیا کو اپنے مزعومہ طریق کے مطابق تبدیل کرنے کے خواب دیکھنے والے نوجوانوں کے حشر کو دیکھنے کے لئے میں ”زین بدھ مت“ کی طرف بھی مائل ہوا۔زین بدھ ازم بدھ مت کی وہ شکل ہے جو جاپان میں مروج ہے۔لیکن حقیقی امن وہاں بھی نہ ملا۔میں اُس زمانہ میں مایوسیوں اور ناکامیوں کی ایک ایسی حوصلہ شکن حالت میں سے گزررہا تھا کہ کسی سمت میں بھی امید کی کوئی کرن یا جھلک دکھائی نہ دیتی تھی۔اس حالت نے ہی مجھے گردو پیش سے متنفر کر کے نیم مخبوط الحواس بنادیا تھا۔انہی خیالات میں غلطاں و پیچاں اور تلاش امن میں سرگرداں میں اپنی ایک گرل فرینڈ کے ہمراہ مراکش کے مذکورہ بالا صحرا میں جا نکلا تھا۔ہم دونوں موٹر میں بیٹھے اُس لق و دق صحرا میں سے گزر رہے تھے۔دل میں پیدا ہونے والے اوہام کے اثر دہام اور ان کے نتیجہ میں رونما ہونے والی گونا گوں کیفیات کے ناگوار طلسم کو توڑنے کی باطنی کشمکش کے دوران میں نے بدحواس ہو کر عجب لاشعوری کے عالم میں اپنی گرل فرینڈ کو موٹر روکنے کے لئے کہا۔جو نہی موٹرر کی میں دیوانہ وار باہر نکلا اور جدھر منہ اٹھا صحرا میں اکیلا دور تک بے تحاشا بھاگتا چلا گیا۔اُس وقت چاہتا میں یہ تھا کہ اگر ممکن ہو تو دنیا و مافیہا کو پیچھے چھوڑ کر زمان و مکان کی حدود کو پھلانگ جاؤں۔میں نے اپنے جسم پر سے اس دنیا کی سب ظاہری نشانیوں حتی کہ کپڑوں کو بھی اتار پھینکا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وراء الوراء ہستی کو پانے کی خواہش جسے