تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 146
تاریخ احمدیت۔جلد 26 11 تنزانیہ 12 یوگنڈا میزان 146 سال 1970ء 3+1 1 1 1 3 3+1 1 18 77 610 11+43 41 123 مکرم ہدایت اللہ ہیوبش صاحب کا قبول احمدیت ۱۹۷۰ء میں ایک نہایت سعید روح مکرم ہدایت اللہ ہیوبش صاحب نے قبول احمدیت کی توفیق پائی۔ہدایت اللہ ہیو بش صاحب جو بعد میں جماعت کے ایک نہایت قیمتی وجود بنے ، نے نظم و نثر اور دیگر کئی ذرائع سے بے انتہا خدمت دین کی توفیق پائی اور مسیح محمدی ﷺ کے روحانی طیور میں شامل ہو کر آسمان روحانیت کے بلند پرواز طائر بنے۔مکرم ہدایت اللہ ہیوبش صاحب نے اپنے ایک انگریزی مضمون میں جو اپریل ۱۹۹۳ء کے دی ریویو آف ریلیجنز لندن میں شائع ہوا ، اپنے قبول احمدیت کے واقعہ کی ایمان افروز تفصیل بیان کی۔اس کا اردو ترجمہ مکرم مسعود احمد صاحب دہلوی سابق مدیر روز نامہ ”الفضل ربوہ کے قلم سے درج ذیل کیا جاتا ہے:۔۱۹۶۹ ء کے موسم بہار کی بات ہے کہ میں مراکش کے صحرا میں عجب وارفتگی کے عالم میں مارا مارا پھر رہا تھا۔حالت میری یہ تھی کہ تن پر کپڑا نہ تھا البتہ مسیح مصلوب کی حالت کا ایک چھوٹا سا دھات کا مجسمہ منکوں کی ایک مالا کے ساتھ میری گردن میں پڑا ہوا تھا۔اس زمانہ کی اپنی ذہنی کیفیت کے لحاظ سے میں ایک ایسے شخص کی طرح تھا جس پر مغربی ثقافت سے بے رغبتی اور اکتا ہٹ کے باعث ایک طرح کی قنوطیت چھائی ہوئی تھی۔اس کیفیت نے مجھے کسی حد تک مخبوط الحواس بنا چھوڑا تھا۔میرا ماضی باغیانہ رجحانات کا حامل تھا۔میرا دل و دماغ وہ سب کچھ قبول کرنے کو تیار نہ تھا جو سکولوں میں پڑھایا جاتا اور سکھایا جاتا تھا۔اُس کے خلاف میرے اندر بغاوت کے جذبات بھڑک اٹھتے تھے۔مغربی انداز سیاست سے جنم لینے والے مظالم سے نفرت کرنا اور غصہ میں مٹھیاں بھینچ بھینچ کر ان کے خلاف جذبات کا اظہار کرنا میرا معمول بن چکا تھا۔اپنے اس باغیانہ طرز عمل کے زیر اثر ۱۹۶۸ء میں میں نے طلباء کے درمیان ابھرنے اور پنپنے والی انقلابی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا