تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 5
تاریخ احمدیت۔جلد 26 5 سال 1970ء نوجوان طالب علم (یونیورسٹی اور کالجز کے ) قادیان آئے ہوئے تھے اور وہ اپنے بعض غیر احمدی دوستوں کو بھی ساتھ لائے تھے۔طلباء کی آپس میں بحث ہوئی تو ہمارا ایک بی اے کا طالب علم ایک سوال کا جواب نہ دے سکا اور اس نے کہا میں اپنا کوئی مولوی لاتا ہوں وہ تمہیں اس سوال کا جواب دے گا۔چنانچہ وہ ساتھ والے کمرہ میں گیا اور اس نے دیکھا کہ ایک سفید پوش آدمی ہیں داڑھی انہوں نے رکھی ہوئی ہے اور شخصیت بڑی بارعب ہے۔اس نے سمجھا کہ یہ کوئی عالم ہیں اس لئے اس نے انہیں مخاطب کر کے کہا میں بحث کے دوران لا جواب ہو گیا ہوں میں ایک سوال کا جواب نہیں دے سکا۔آپ تشریف لائیں اور اس سوال کا جواب دیں۔چنانچہ وہ دوست اس طالب علم کے ساتھ گئے اور اس غیر احمدی دوست کی اس مسئلہ کے متعلق تسلی کر دی۔ہماری پنجابی زبان میں ایک مثل مشہور ہے۔مچلا جٹ۔یہ مشل دنیوی طور پر تو درست ہو سکتی ہے لیکن ایک زمیندار (اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو دیہات میں رہتا ہے اور کاشتکاری کرتا ہے چاہے اس کی زمین ہو یا نہ ہو ) کو اللہ تعالیٰ نے ایسی فراست دی ہے کہ بعض دفعہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور پھر آگے ان میں سے بہت سے فدائی نکلے ہیں۔بیسیوں دفعہ میں نے باہمی رنجشیں دور کرنے کے سلسلہ میں کھیت میں جا کر اور زمین پر بیٹھ کر زمینداروں سے باتیں کی ہیں۔میں نے دیکھا کہ منٹوں میں جھگڑے ختم ہو جاتے تھے۔میری ان باتوں کا ان پر خاصہ اثر ہوتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بڑی غیرت رکھنے والے حساس دل دئے ہیں اور بڑی پیاری روحیں انہیں ملی ہیں۔بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ میرے محترم بزرگ چوہدری فتح محمد صاحب سیال کا مجھ پر بہت احسان تھا کہ انہوں نے مجھے میری اس چھوٹی عمر میں اور نا تجربہ کاری کی عمر میں اپنے ساتھ لے جا کر میرے تجربہ میں بڑی وسعت کے مواقع پیدا کئے اور دیہات میں رہنے والوں کے لئے میرے دل میں جو لگا و پوشیدہ تھا اس لگاؤ کو ظاہر ہونے کا موقع ملا۔اب بھی میں ایک سادہ دیہاتی سے جب بھی مجھے اس سے