تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 122
تاریخ احمدیت۔جلد 26 122 سال 1970ء 115 اولاد کی تربیت کرو کہ وہ بڑے ہو کر اسلام اور احمدیت کے بچے خدمت گزار ثابت ہوں۔اور لوگوں کو حق کی طرف کھینچنے والے ہوں۔آمین۔حضور انور کا یہ خطاب کم و بیش ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔حضور انور کا اظہار خوشنودی بابت مبلغین سلسله مغربی افریقہ سید نا حضرت طریقہ اصبع الثالث نے مغربی افریقہ کے چھ ممالک کا دورہ فرمایا۔حضور کواپنے اس سفر کے دوران ان ممالک کے مبلغین کا بہت قریب سے جائزہ لینے کا موقعہ ملا۔ان کی دینی سرگرمیوں پر گہری اور ناقدانہ نظر ڈالی۔حضور نے ۱۹ جون ۱۹۷۰ ء کے خطبہ جمعہ میں اپنے تاثرات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔افریقہ کے دورہ میں واقفین مبشرین کے حالات میں نے دیکھے ان سے ملا۔جو عزت اللہ تعالیٰ نے ان کی اس مقام نعیم کی وجہ سے قائم کی ہے وہ میرے مشاہدہ میں آئی۔لیکن کچھ وہ بھی تھے کہ جو مقام نعیم کو حاصل نہیں کر سکے تھے ان کو بھی میں نے دیکھا اور ان کی زندگیوں کا مطالعہ کیا اور ان کے کاموں پر تنقیدی نگاہ ڈالی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان چھ ممالک کے تمام مبشر انچارج جو ہیں وہ ظاہری طور پر جو مجھے نظر آیا ( دلوں کا حال تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور مستقبل اور غیب کی خبر صرف اسی کو ہے لیکن جو میں نے محسوس کیا اور جو میں نے مشاہدہ کیا وہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی اس مقام نعیم میں رہنے والے ہیں۔بے نفس، اللہ کی محبت میں مست ، اس کی مخلوق کی خدمت کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس دنیا میں بھی عزت کو پانے والے ہیں۔نائیجیریا میں فضل الہی صاحب انوری ہیں۔غانا میں کلیم صاحب ہیں۔آئیوری کوسٹ میں قریشی ( محمد افضل ) صاحب ہیں جن کو پنجابی میں ”یبا مبشر بھی کہا جا سکتا ہے۔بہت سادہ اور پیاری ان کی طبیعت ہے۔بڑی پیار کرنے والی اور آرام سے سمجھانے والی اور اپنے آرام کو اور بہت سی ضرورتوں کو دوسروں کے لئے قربان کر دینے والی ہے طبیعت ان کی۔لائبیریا میں نے مبلغ گئے ہیں امین اللہ سالک۔ابھی ان کے متعلق پوری طرح تو کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا لیکن اس وقت تک جو کام انہوں نے کیا اس سے یہی پتہ لگا وہاں کے