تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 123 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 123

تاریخ احمدیت۔جلد 26 123 سال 1970ء پریذیڈنٹ ٹب مین بھی ان کو بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔سیرالیون میں ہمارے صدیق صاحب ہیں۔گیمبیا میں مولوی محمد شریف صاحب ہیں۔میں نے محسوس کیا کہ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے مقام نعیم عطا کیا ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں میں نے ان کے لئے عزت کا مقام دیکھا۔اسی طرح دنیا کی نگاہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک عزت اور احترام کا مقام عطا کیا ہے۔ہمارے سفراء ان کی تعریف کرتے تھکتے نہیں۔دوسرے ملکوں کے سفراء ان سے بڑے پیار سے ملتے ہیں اور پیار کے تعلقات ان کے ساتھ قائم ہیں۔حکومت ان سے راضی ہے عوام ان پر خوش ہیں۔غرض ہر لحاظ سے ان کے چہروں پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کی شادابی ہمیں نظر آتی ہے اور ہماری جماعت کو ان کے لئے بہت دعائیں کرنی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ انہیں ابرار ہی میں رکھے اور ہمیشہ اپنی نعمتوں کا وارث انہیں بناتا رہے وہ ابرار کے گروہ میں ہی اس دنیا سے رخصت ہوں اور ابرار کے گروہ میں ہی اس دنیا میں وہ اٹھائے جائیں“۔116- حديقة المبشرین کا قیام سفرافریقہ سے واپسی پر حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے ایک انقلابی قدم یہ اٹھایا کہ سلسلہ احمدیہ کے تمام واقفین کو ایک جدید نظام عمل سے وابستہ کر کے حدیقہ المبشرین“ کے نام سے ایک نیا ادارہ قائم فرمایا۔اب تک یہ دستور تھا کہ جامعہ احمدیہ سے کامیاب ہونے والے شاہدین کو مستقل طور پر تحریک جدید اور صدر انجمن احمد یہ پاکستان میں مساوی طور پر تقسیم کر دیا جاتا تھا۔صدر انجمن احمدیہ کے حصہ میں آنے والے شاہدین کو پاکستان میں دینی خدمت کے لئے مخصوص کر دیا جاتا اور تحریک جدید کے واقفین اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے بیرونی ممالک میں بھجوا دئے جاتے۔لیکن حضور انور نے ۱۹ جون ۱۹۷۰ء کو یہ طریق یکسر بدل دیا اور اس روز خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا:۔”اب میں ایک نئی تنظیم کا اعلان کرنے لگا ہوں۔میں نے بہت سوچا بہت دعائیں کیں۔میں اللہ تعالیٰ کی طرف عاجزانہ جھکا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ