تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 121
تاریخ احمدیت۔جلد 26 121 سال 1970ء ۱۹۷۰ء تک وعدوں کی رقم خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے چھبیس لاکھ نوسوستائیس تک پہنچ گئی اور قریب سات لاکھ روپے مرکز کو وصول ہو گئے۔114- لجنہ اماءاللہ سے خطاب مورخه ۱۳ جون ۱۹۷۰ء کو حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے مکان پر حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے سفر مغربی افریقہ سے واپسی پر ربوہ کی مستورات سے پہلا خطاب فرمایا۔جس میں حضور نے سفر کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اہم نصائح فرمائیں۔اس اجتماع میں ربوہ کی خواتین کثرت کے ساتھ شامل ہوئیں۔حضور نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔میں نے دو ماہ تک مغربی افریقہ کے مختلف ممالک کا جو دورہ کیا ہے اس میں میں نے دیکھا ہے کہ وہاں پر مائیں اپنے بچوں کی بہت اچھی طرح تربیت کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان میں لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا وہ اجتماعوں کے مواقع پر شور نہیں کرتے بلکہ غور سے تقاریر کو سنتے ہیں۔کپڑے صاف ستھرے ،نہانے کا التزام ، اپنے گھروں کے آگے صفائی وغیرہ کا وہ لوگ خاص طور پر خیال رکھتے ہیں۔وہاں کی عورتوں کا تجارت کی طرف بھی دماغ بہت چلتا ہے۔چنانچہ بہت سی عورتیں کامیابی کے ساتھ تجارت اور کاروبار کرتی ہیں۔اس وقت تک وہاں کی دو مخیر احمدی عورتیں لاکھوں روپیہ اپنی جیب سے خرچ کر کے دو شاندار مساجد تعمیر کروا چکی ہیں جبکہ وہاں کے مردوں میں ایسی مثال نہیں ملتی۔وہ دین کی خاطر مالی قربانیوں میں پیش پیش ہیں۔مردوں سے زیادہ شوق کے ساتھ جلسوں میں شامل ہوتی رہیں اور شور کرنے اور باتیں کرنے کی بجائے خاموشی اور دلجمعی سے تقاریر سنتی رہیں۔میں نے کسی جگہ بھی انہیں آپس میں لڑتے جھگڑتے نہیں دیکھا۔حضور نے فرمایا۔خلیفہ وقت سے ملاقات کا انہیں پہلی مرتبہ موقع ملا تھا۔ان کی یہ خوشی نا قابل بیان تھی۔ان کی خوشی و مسرت پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی ہوتی تھی۔ان میں احمدیت کی بدولت ایک عظیم روحانی انقلاب آچکا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم چل کر نہیں بلکہ دوڑ کر ان کی ہر ممکن خدمت کرنے کی کوشش کریں۔وہ لوگ پیار اور محبت کے بھوکے ہیں اور حقیقی پیار اور محبت سوائے اسلام اور احمدیت کے اور کہیں سے انہیں نہیں مل سکتا۔حضور نے بتایا کہ ان کی خدمت کے لئے میں نے نصرت جہاں ریز روفنڈ قائم کیا ہے۔جس سے ان ممالک میں نئے سکول اور طبی مراکز قائم کئے جائیں گے۔آخر میں حضور انور نے فرمایا۔اے احمدی ماؤں ! تم کوشش کرو اور ایسے رنگ میں اپنی