تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 3 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 3

تاریخ احمدیت۔جلد 26 3 سال 1970ء عبداللہ صاحب مہار اور چند دیگر معززین کے ہمراہ لاہور سے گھٹیالیاں بذریعہ کار تشریف لائے۔آپ کے خیر مقدم کے لئے کالج وسکول کے طلباء واساتذہ اور علاقہ کے معززین اور سیالکوٹ کے بعض احباب بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔محترم چوہدری صاحب کا سب سے پہلے ممبران کالج کمیٹی اور سٹاف سکول و کالج سے تعارف کروایا گیا۔پھر آپ نے مینیجر صاحب اور پرنسپل صاحب کی معیت میں کالج، کالج ہوٹل ،سکول و سکول ہوٹل اور کوارٹرز کا معاینہ کیا۔اس کے بعد آپ جلسہ کی تقریب میں تشریف لائے۔جہاں سامعین کا جم غفیر موجود تھا۔جلسہ کی کارروائی تلاوت قرآن مجید سے شروع ہوئی جو مولوی عبدالحلیم صاحب نے کی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم کے چند اشعار ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکا یا ہم نے منظور احمد شاکر صاحب نے پڑھے۔بعد ازاں پرنسپل عبد السلام اختر صاحب نے محترم چوہدری صاحب کو خوش آمدید کہتے ہوئے بتایا کہ یہ کالج دیہاتی اور غریب علاقہ میں خدمت خلق کر رہا ہے۔اس کالج کے قیام کے بارہ میں حضرت مصلح موعود اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے خاص دلچسپی کا اظہار فرمایا تھا۔پرنسپل صاحب کے خطاب کے بعد محترم چوہدری صاحب نے تقریر فرمائی۔آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اس دور افتادہ جگہ پر کالج قائم کرنے کی حقیقی غرض وہ نہیں جسے دنیا والے حقیقی غرض سمجھتے ہیں۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ تعلیم ہمیں متقی دیندار اور رضائے الہی پر راضی ہونے والا بنا دے۔اگر ہم میں تقوی اور خدا سے مضبوط تعلق پیدا نہیں ہوتا تو کچھ بھی نہیں۔آپ کے خطاب کے بعد دعا پر جلس ختم ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی طرف سے دو بزرگان سلسلہ کا ذکر خیر ۹ جنوری ۱۹۷۰ء کو سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے چار نکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ نکاح میں حضور نے مولانا ظہور حسین صاحب مجاہد بخارا اور حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال بانی احمد یہ مشن انگلستان کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔اس وقت میں جن نکاحوں کا اعلان کروں گا ان میں سے دو نکاحوں کا تعلق ان دوستوں اور بزرگوں سے ہے جو ایک لحاظ سے میرے محسن بھی ہیں۔جس وقت میں انگلستان سے تعلیم ختم کر کے واپس آیا تو مجلس عاملہ خدام الاحمد یہ مرکزیہ نے میرے اس احتجاج کے باوجود جو احساس کم مائیگی سے نکلا تھا مجھے مجلس خدام الاحمدیہ کا