تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 117
تاریخ احمدیت۔جلد 26 117 سال 1970ء اس وقت وعدے نہ لکھوائیں کیونکہ میں نے یہاں زیادہ دیر بیٹھنا نہیں۔اور اگر میں نے یہ کام شروع کر دیا تو باقیوں کو شکوہ پیدا ہوگا کہ کیوں ہمارا وعدہ نہیں لیا۔ابھی دفتر بھی نہیں۔کمیٹی بنانی ہے۔مدکھولنی ہے۔پرسوں کی بجائے کل کھولنی پڑے گی۔انشاء الل۔۔۔مکرم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کیلئے بھی دوست دعا کریں ایک نئے علم کا دروازہ ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل نے کھولا ہے۔انہوں نے دو ہزار ڈالر دئے ہیں 111 لندن کی مد میں۔یہاں انشاء اللہ مجھے امید ہے کہ ڈیڑھ لاکھ پونڈ کی رقم جمع ہو جائے گی۔ابھی امریکہ ہے بعض اور جگہیں ہیں۔پس کم از کم ایک لاکھ پونڈ کا مجھے کہا گیا تھا باقی جتنی ہے وہ تو اللہ میاں کو پتہ ہے۔ویسے سب سے پہلا وعدہ تو وہیں انگلستان میں ایک پاکستانی کا ہے اس نے کہا تھا کہ سب سے پہلے مجھ سے پانچ ہزار روپے کا وعدہ لیں۔بہر حال نمبر ایک وہی ہیں۔وہ اگر چہ پاکستان سے باہر ہیں لیکن ہیں پاکستانی ] خطبہ جمعہ میں سفر مغربی افریقہ وسیبین کا تذکرہ سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث نے کراچی کے بعد ۱۲ جون ۱۹۷۰ءکو خطبہ جمعہ ربوہ میں بھی سفر مغربی افریقہ کی مزید تفصیلات بیان فرمائیں۔علاوہ ازیں سفر سپین کے اہم واقعہ پر بھی روشنی ڈالی۔چنانچہ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ سپین کے متعلق میں نے ابھی کوئی منصوبہ نہیں بنایا کیونکہ اگر میں صحیح سمجھا ہوں اللہ تعالیٰ کا منشاء بھی یہی ہے۔میں بہت پریشان تھا۔سات سو سال تک وہاں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے۔اس وقت کے بعض غلط کار علماء کی سازشوں کے نتیجہ میں وہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی۔وہاں کوئی مسلمان نہیں رہا۔ہم نے نئے سرے سے تبلیغ شروع کی۔چنانچہ اس ملک کے چند باشندے احمدی مسلمان ہوئے وہاں جا کر شدید ذہنی تکلیف میں غرناطہ جو بڑے لمبے عرصہ تک دارالخلافہ رہا۔جہاں کئی لائبریریاں تھیں یونیورسٹی تھی ، جس میں بڑے بڑے پادری اور بشپ مسلمان استادوں کی شاگردی اختیار کرتے تھے۔مسلمان وہاں سے مٹا دیئے گئے۔غرض اسلام کی ساری شان و شوکت مادی بھی اور روحانی بھی اور اخلاقی بھی مٹادی گئی ہے۔