تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 116
تاریخ احمدیت۔جلد 26 116 سال 1970ء پچاس ہزار کے اوپر وعدے ہو جائیں گے۔پس انہوں نے بڑا اچھا نمونہ دکھایا ہے۔الحمد لله رب العالمین۔پہلے میرا خیال تھا کہ یہاں کی سکیم کے بارے میں خطبہ میں بیان کروں گا لیکن پھر مجھے خیال آیا خطبہ ہوگا پھر خطبہ کی میں نظر ثانی کرتا ہوں دیر ہو جائے گی۔پاکستان کے لئے جو سکیم ہے اس کا کراچی میں اعلان کر دوں۔۔پاکستان میں مجھے دو سوایسے مخلصین کی ضرورت ہے جو پانچ ہزار روپے کا وعدہ کریں جس میں سے دو ہزار روپیہ فوری طور پر ادا کر دیں۔فوری سے میری مراد چند مہینوں کے اندر ادا کرنا ہے کیونکہ یہ اعلان شائع ہونا، آواز پہنچنی اور پھر رقموں کا آنا، اس میں وقت لگے گا اس لئے فوری سے میری مراد کل نہیں۔سندھ سے کچھ دوستوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمارے علاقے کے زمینداروں کے حالات کے لحاظ سے نومبر کا مہینہ آسانی سے ادا کرنے کا ہے اس لئے فوری کی حد نومبر تک بڑھا دیں تو اور دوست شامل ہو جائیں گے اور دوسو ایسےمخلصین کی ضرورت ہے جو دو ہزار کا وعدہ کریں اور ایک ہزار فوری ادا کر دیں اور فوری اس معنی میں جو میں نے ابھی بیان کیا ہے اور باقی کی رقم تین سال پر پھیلا کر سہولت کے ساتھ ادا کریں۔نیز ایک ہزار ایسے مخلصین کی ضرورت ہے جو پانچصد روپیہ فی کس ادا کریں یہ تینوں گروہ صف اوّل صف دوم صف سوم کے ہونگے۔غرض یہ سکیم ہے جس کے مطابق عمل کرنا ہے۔تقریر کے بعد دوستوں نے عرض کیا حضور یہ رقم کہاں جمع کروانی ہے اس پر حضور نے فرمایا:۔اس کے لئے میں ایک کمیٹی بناؤں گا۔خزانہ میں ایک مد کھلے گی ”نصرت جہاں ریز روفنڈ کی۔پھر فرمایا:۔لندن والوں سے مجھے امید ہے کہ وہ پچاس ہزار پونڈ تک پہنچ جائیں گے اور مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ ڈیڑھ لاکھ پونڈ کی رقم کے روپے پاکستان دے دے گا۔اس اثناء میں وعدے اور نقد روپے آنے لگے جس پر فرمایا:۔