تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 102
تاریخ احمدیت۔جلد 26 102 سال 1970ء دانشوروں، دیگر اہل علم حضرات ، یونیورسٹی کے پروفیسروں، طلباء اور دیگر معززین شہر سے انگریزی میں خطاب فرما کر حصول علم کی جدو جہد کو نتیجہ خیز اور مشمر بنانے کے اسلامی طریق پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔حضور کے اس بصیرت افروز اور معرکۃ الآراء خطاب کی چار کالمی خبر شائع کرتے ہوئے مارنگ پوسٹ نے ۱۸ را پریل کے شمارہ میں لکھا:۔عالمی احمد یہ مسلم آرگنائز یشن کے سربراہ اعلی حضرت حافظ مرزا ناصر احمدخلیفہ المسح الثالث کے نزدیک نائیجیریا کا مستقبل بہت روشن اور تابندہ تر ہے۔آپ ابھی سے اس روشن اور شاندار مستقبل کو اپنی بصیرت کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں۔آپ نے فرمایا ہے افریقہ میں بادصبا کی مانند ایک خوشگوار ہوا چلنی شروع ہو چکی ہے۔یہ ہوا ایک نئی تبدیلی کے آثار نئی امیدوں اور نئی امنگوں سے بھر پور و معمور ہے۔یہ اہل افریقہ کو ایک نئی بیداری اور نئے عزائم سے ہمکنار کرنے والی ہے۔اور ساتھ ہی ایسے شواہد کی آئینہ دار ہے جن سے اہلِ افریقہ کے حق میں اللہ تعالیٰ کے خوش آئند مقدرات کی نشاندہی ہوتی ہے“۔حضرت حافظ مرزا ناصر احمد نے ان خیالات کا اظہار ابادان میں جماعت احمدیہ کے افراد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔آپ نے اس امر پر زور دیا کہ یہ روشن مستقبل جسے آپ اپنی بصیرت کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں نو جوانوں کے ہاتھ میں ہے۔لہذا آپ نے نائیجیریا کے نو جوانوں کو توجہ دلائی کہ وہ ایسے طریق پر حصول علم کی جدو جہد جاری رکھیں کہ حاصل کردہ علم کو انسانی زندگی کی بہتری اور اللہ کے مقرر کردہ مقاصد کی تکمیل میں استعمال کیا جا سکے۔حضرت احمد نے طلباء کو توجہ دلائی کہ اچنبہ اور استعجاب علم کی کنجی ہے۔آپ نے نائیجیریا کے نو جوانوں کو پُر زور الفاظ میں یہ نصیحت بھی فرمائی کہ وہ تمام بنی نوع انسان کے مفادات اور امنگوں سے کبھی بے رخی نہ برتیں۔آپ نے فرمایا کہ ایک دوسرے کے ساتھ معاملہ کرنے میں ، انسانی برادری کے تعلق میں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ہمیں ان سے ہمیشہ باخبر اور آگاہ رہنا چاہیے اور انہیں ادا کرنے میں کوشاں رہنا چاہیے۔آپ نے مزید فرمایا کہ اگر ہم اس صاف اور سیدھی بات کا خیال رکھیں اور اس بارہ میں پوری احتیاط سے کام لیں۔تو ہم ان تمام خطرات سے بآسانی بیچ نکلیں گے جو آج تہذیب جدید کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔99