تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 100 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 100

تاریخ احمدیت۔جلد 26 100 سال 1970ء ہوئے حضور کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔اس روز کے اس اہم ترین فوٹو کے نیچے اخبار مذکور نے لکھا:۔جنرل گوون نے کل ورلڈ احمد یہ مسلم آرگنائزیشن کے سربراہ اعلیٰ حضرت حافظ مرزا ناصر احمد خلیفة امسیح الثالث کو خوش آمدید کہا۔جو اُن سے ملاقات کرنے کی غرض سے ان کی رہائشگاہ واقعہ دو ڈن 97 بیر کس میں تشریف لائے تھے۔و پھر اخبار مذکور نے اسی شمارے کے صفحہ۲ پر شہ سرخیوں کے ساتھ ملاقات کی تفصیلی خبر شائع کرتے ہوئے لکھا:۔ر میجر جنرل یعقوبو گوون نے کل لیگوس میں کہا کہ انہوں نے امیکا اجوکو Chukwuemeka) (Ojukwu جب وہ مشرقی صوبے کو نائیجیریا سے الگ کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا متنبہ کیا تھا کہ اس کے نام نہاد ”بیا فرا‘ کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا ”میں نے غیر ملکیوں کو بھی متنبہ کیا تھا کہ وہ اجو کو کی خیالی سلطنت کو بیافرا کا نام نہ دیں ورنہ بیا فرا کا لفظ جدا ہو جانے یا بغاوت یا علیحدگی پسندی کے رجحان کے مترادف سمجھا جانے لگے گا۔جنرل گوون نے ان خیالات کا اظہار احمد یہ مسلم عالم آرگنائزیشن کے سر براہ اعلیٰ حضرت حافظ مرزا ناصر احمد خلیفہ اسیح الثالث کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا جو ان کی دوڈن بیر کس کی رہائشگاہ میں ملاقات کے لئے تشریف لائے تھے۔سر براہ مملکت نے کہا کہ جنگ کے خاتمہ کے بعد حالات نے جو رخ اختیار کیا اس سے بھی یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ اگر اجو کومنظر عام پر نہ آتا تویہ قضیہ بھی کا طے ہو چکا ہوتا۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے صدر مملکت نے کہا۔بغاوت کو کچل دینے کے بعد ہمارے سامنے جو سب سے اہم کام ہے وہ دلوں کو جیتنا ہے۔یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ نائیجیریا میں مختلف مذہبی تنظیموں کے مابین مفاہمت کی فضا قائم ہے۔ورنہ اگر ہم سمندر پار سے کئے جانے والے مذہبی پروپیگینڈ پر کان دھرتے تو ہمارے لئے بہت زیادہ مشکلات پیدا ہو جاتیں۔خدا کا شکر ہے کہ نائیجیریا کے عوام اس پروپیگنڈا سے گمراہ نہیں ہوئے اور انہوں نے مذہبی تفریق سے بالا ہو کر باہمی تعاون کا بہت اچھا نمونہ دکھایا۔نائیجیریا میں جماعت احمدیہ کے کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے جنرل گوون نے ان کی بہت تعریف کی اور اہلِ نائیجیریا کی اخلاقی، جسمانی اور ذہنی و فکری ترقی کے ضمن میں جماعت نے جو کردار