تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 91
تاریخ احمدیت۔جلد 26 91 سال 1970ء صاحب، صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب اور پروفیسر چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے بذریعہ موٹر کاربوہ سے لاہور پہنچ کر حضور انور کو اهلا وسهلا و مرحبا کہنے کی سعادت حاصل کی۔حضور لا ہورائیر پورٹ پر قریباً چالیس منٹ قیام فرمانے کے بعد دیگر اہلِ قافلہ کے ہمراہ اسی روز سوا دس بجے صبح موٹر کاروں کے ذریعہ ربوہ کے لئے روانہ ہوئے۔لاہور سے جماعت احمدیہ لاہور کے بہت سے احباب بھی اپنی کاروں میں مشایعت کی غرض سے دس میل تک آئے۔علاوہ ازیں مجلس خدام الاحمدیہ لا ہور کے ہیں سکوٹر سوار خدام بھی مشایعت کے لئے ساتھ ساتھ تھے۔یہ سب خدام بھی لاہور سے دس میل تک قافلہ کے ساتھ رہے اور پھر لاہور واپس چلے گئے۔لاہور سے شیخو پورہ تک راستہ میں لاہور، ماڈل ٹاؤن اور گنج مغلپورہ کے خدام جگہ جگہ حاضر رہ کر مشایعت کے فرائض انجام دیتے رہے۔شیخوپورہ سے سے سکھیکی تک ضلع و شہر شیخو پورہ کے خدام نے یہ فرائض سرانجام دئے اور سکھیکی سے ربوہ تک کے راستہ میں مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ کے اراکین نے جگہ جگہ موجودرہ کر حضور کا راستہ میں ہی استقبال کرنے اور حضور کو خوش آمدید کہنے کی سعادت حاصل کی۔لاہور سے ربوہ تک راستہ میں جگہ جگہ دیہی جماعتوں کے احباب نے سڑک کے کنارے جمع ہو ہو کر حضور کو اھلا و سهلا و مرحبا کہنے کی سعادت حاصل کی۔حضور لاہور سے روانہ ہونے اور شیخوپورہ میں مکرم چوہدری مقبول احمد صاحب چیف انجینئر بلدیہ ( داماد حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ) کی کوٹھی پر قریبا نصف گھنٹہ قیام فرمانے کے بعد ٹھیک پونے دو بجے ربوہ میں وارد ہوئے۔ربوہ میں تشریف آوری اور استقبال کا پُر کیف نظارہ ربوہ میں اہل ربوہ اور مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں سے آنے والے کثیر التعداد مخلصین جماعت نے کس والہانہ شان اور زبر دست جوش و خروش کے ساتھ اپنے مظفر ومنصور امام عالی مقام کا استقبال کیا۔اس کی تفصیل جناب مسعود احمد خاں صاحب دہلوی کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔آپ تحریر کرتے ہیں کہ بسوں کے اڈہ سے شہر کے اندر ہی اندر قصر خلافت تک کے تمام راستہ پر اہلِ ربوہ شامیانوں اور سایہ دار درختوں کے نیچے ایک خاص ترتیب کے ساتھ جمع تھے۔بسوں کے اڈہ پر خدام الاحمدیہ کی آرائشی محراب سے گولبازار کے سرے پر انصار اللہ کی آرائشی محراب تک کا راستہ