تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 90
تاریخ احمدیت۔جلد 26 90 سال 1970ء یہ احساس ہے کہ یہاں سے ہمیں پیار بھی ملے گا اور دعا بھی اور پھر یہ کہ یہ ہمدرد ہیں۔ہماری زندگی کا حقیقی مقصد حضرت نبی کریم ع کی عظمت اور شان اور جلال کا قیام ہے۔خدا کرے کہ ہم اپنی آنکھوں سے ساری دنیا میں اس عظمت کو قائم شدہ دیکھیں اور خوشیوں کے دن پائیں۔تقریر کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کروائی۔دعا کے بعد تمام احباب کو شرف مصافحہ بخشا۔یہ 92 سلسلہ گیارہ بجے رات تک جاری رہا۔یہاں سے فارغ ہو کر حضور اپنی قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔چوہدری احمد مختار صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے حضور کی تحریک نو نصرت جہاں ریزرو فنڈ پر والہانہ لبیک کہتے ہوئے جماعت کراچی کی طرف سے تین لاکھ روپے کا گرانقدر وعدہ حضور کے پر معارف خطاب کے معاً بعد حضور کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی اور پھر اسی روز جناب عبدالرحیم صاحب مد ہوش کو اس کام پر مقررفرمایا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پوری مستعدی سے انفرادی وعدوں کے حصول کی خصوصی مہم شروع کر دی اور چند روز کے اندر اندر کراچی کے مخلصین سے ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ کے انفرادی وعدہ جات حاصل کر کے مرکز میں ارسال کر دئے۔کراچی سے روانگی کراچی میں ایک روز قیام فرمانے کے بعد ۸ جون بروز دوشنبه صبح سوا آٹھ بجے کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز عازم لاہور ہوئے۔کراچی، کوئٹہ اور سندھ کے مختلف علاقوں کے احباب نے فضائی مستقر پر حاضر ہوکر حضور کو دلی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔لاہور میں ورود اور عزم ربوہ حضور اسی روز صبح 9 بج کر ۳۵ منٹ پر لاہور کے فضائی مستقر پر ورود فرما ہوئے جہاں نہ صرف جماعت احمدیہ لاہور کے احباب (مردہ مستورات اور بچے ) مکرم چوہدری فتح محمد صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ لاہور کی قیادت میں حضور کے استقبال کے لئے حاضر تھے بلکہ راولپنڈی، اسلام آباد، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور متعدد دوسرے مقامات کے احباب بھی بہت بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے۔مزید برآں صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب، (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد