تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 180 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 180

تاریخ احمدیت۔جلد 26 180 سال 1970ء گئی۔حضور نے ماحضر تناول فرمانے کے بعد معزز شہریوں سے گفتگو کے دوران فرمایا۔ہمارے پاکستانی بھائیوں کو اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ قرآن کریم کی پیشگوئیوں اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے مطابق دنیا میں اسلام کے حق میں ایک عظیم انقلاب بپا ہو رہا ہے۔آپ نے فرمایا کمیونزم کے گھٹا ٹوپ بادل اب آہستہ آہستہ چھٹ رہے ہیں۔دہریت والحاد میں ڈوبی ہوئی فضا میں جہاں کل تک مذہب کا نام لینا جرم تھا اب وہاں مسجدیں آباد ہورہی ہیں۔اسلامیات پر درس و تدریس کے سلسلے بحال ہورہے ہیں اور مسلمان حلقوں میں اسلامی اخلاقیات پر بڑا زور دیا جا رہا ہے۔دوسری طرف یورپ و امریکہ میں عیسائیت کی مذہبی حیثیت ختم ہو چکی ہے۔عیسائیت اب بر اعظم افریقہ میں ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اور جماعت احمدیہ کے ساتھ اسے زبر دست مقابلہ در پیش ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری تبلیغی جد و جہد کے نتیجہ میں وہ لرزہ براندام ہے اور قریباً ہر میدان میں پسپا ہو رہی ہے۔حضور نے کمیونزم اور سرمایہ داری کے مقابلے میں اسلامی تعلیمات کی بعض خصوصیات پر روشنی ڈالی اور اسلام کے اقتصادی اصول کی برتری ثابت کرتے ہوئے انہیں بنی نوع انسان کی سچی خوشی اور خوشحالی کا ضامن قرار دیا۔آپ نے فرمایا۔اسلام مذہبی رواداری کا علمبر دار اور ہر قسم کے تعصب کو مٹاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نجران کے عیسائی وفد کو مسجد نبوی میں اپنی عبادت بجالانے کی اجازت مرحمت فرما نا اس کا عملی ثبوت ہے۔یہاں سے فارغ ہو کر حضور اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور مغرب کی نماز پڑھائی اور اس کے بعد احباب میں تشریف فرما ہونے پر سب سے پہلے افریقن احمدی ابراہیم بن یعقوب صاحب کا ایک غیر از جماعت دوست کے ساتھ تبادلہ خیالات کرنے پر اظہار خوشنودی فرمایا۔بات یہ ہوئی کہ یہ اور ایک دوسرے افریقی بھائی احمد جبرائیل سعید بھی اس دعوت میں شریک تھے ایک معزز غیر از جماعت ایڈووکیٹ نے ابراہیم صاحب سے باتوں باتوں میں پوچھا کہ احمدی اور غیر احمدی میں فرق کیا ہے؟ ان کا جواب کئی لحاظ سے بڑا دلچسپ تھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ احمدی اور غیر احمدی ایک باپ کے دو بیٹوں کی طرح اپنے سید و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور آپ کے فرمودات کو ماننے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ احمدیوں نے ایک فرمانبردار بیٹے کی حیثیت میں اپنے آقائے دو عالم کے مبارک ارشاد پر لبیک کہتے ہوئے آپ