تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 70 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 70

تاریخ احمدیت۔جلد 25 70 سال 1969ء نظام اسلام کے نظام اقتصاد کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اسلام ہی ہے جس نے تمام انسانوں اور اقوامِ عالم کے حقوق کی مکمل اور پر زور حفاظت کی ہے۔یہ خطبات نظارت اصلاح و ارشادر بوہ نے نہایت دیدہ زیب سرورق اور عمدہ کتابت اور آفسٹ طباعت کے ساتھ شائع کرادیئے تھے۔اہل ربوہ کونماز با جماعت کی خصوصی تلقین حضرت خلیفہ المسیح الثالث کو اطلاع ملی کہ ربوہ کے ایک محلہ کے دکاندارنماز با جماعت میں ست ہو گئے ہیں۔اس پر حضور نے انہیں بلا کر نصیحت فرمائی جس کا فوری اثر ہوا اور پورٹیں آنے لگیں کہ نماز کے وقت فوراً دکانیں بند ہو جاتی ہیں اور دکاندار نماز کے لئے چلے جاتے ہیں۔خدا کے فضل سے جماعت کا بڑا حصہ ہمیشہ ہی روح اخلاص کے مثالی نمونے پیش کرتا آرہا تھا لیکن بشری کمزوریوں کی وجہ سے ضرورت تھی کہ اس امر کی طرف بار بار یاد دہانی کرائی جائے اور بتایا جائے کہ ایک زندہ جماعت کی حیثیت سے اس سستی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔اسی اہمیت کے پیش نظر حضور نے ۶ امئی ۱۹۶۹ء کے خطبہ جمعہ میں اہل ربوہ کو خصوصاً اور دیگر تمام بیرونی جماعتوں کو عموماً ہدایت فرمائی کہ اگر انہیں نماز باجماعت ادا کرنے میں ذرا بھی سستی نظر آئے تو چوکس اور بیدار ہوکر اسے دور کرنے کی کوشش کریں۔اس تعلق میں صدر عمومی ربوہ کا یہ فرض قرار دیا کہ وہ ہر دو ہفتہ کے بعد صدر صاحبان کے مشورہ سے رپورٹ دیا کریں کہ کہاں سنتی اور کہاں چستی ہے۔اور یہ اطلاع بہر حال ملنی چاہیے کہ ربوہ کے مکین دینی کاموں میں کس رفتار کے ساتھ ترقی کر رہے ہیں کہ اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ڈالی ہے۔نیز ہدایت فرمائی کہ اس رپورٹ کے علاوہ نظارت امور عامہ اور نظارت اصلاح وارشاد کی طرف سے بھی الگ الگ رپورٹیں آنی چاہیں۔نظارت امور عامہ کی طرف سے یہ رپورٹ آنی چاہیے کہ اس مہینہ کتنے لوگ ربوہ میں رہائش پذیر ہوئے ہیں جن کا تعلق جماعت احمدیہ سے نہیں۔ایسے لوگ اگر پہلے سے یہاں رہائش پذیر ہیں تو ان کا کوئی کام ایسا تو نہیں جو ہماری روحانی و اخلاقی فضا کو خراب کرنے والا ہو۔یہ رپورٹ مستقل حیثیت میں آنی چاہیے اور آپس میں مشورہ کر کے نہیں آنی چاہیے تا کہ میں کسی نتیجہ پر پہنچ سکوں۔نظارت اصلاح وارشاد کے سپرد چونکہ جماعتی تربیت کا کام ہے اس لئے ان کی طرف سے یہ رپورٹ آنی چاہیے کہ اہل ربوہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔