تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 71
تاریخ احمدیت۔جلد 25 71 سال 1969ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان کردہ تفسیر اور دوسرا اسلامی لٹریچر پڑھنے اور خطبات سننے کی طرف متوجہ ہیں۔24 انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو زیادہ مستعد ہونے کی تحریک حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے اس خطبہ جمعہ (۱۶ مئی ۱۹۶۹ء) میں انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کی خدمات پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا: ہر دو مجالس کا ایک حصہ بڑا ہی اچھا کام کر رہا ہے اور قابلِ رشک ہے۔اگر خدام الاحمدیہ ہیں تو وہ انصار اللہ کے لئے قابل رشک ہیں اور انصار اللہ ہیں تو جماعت کے لئے قابل رشک ہیں۔خدا کے لئے فدا ہونے والی اور اپنے نفسوں اور اموال کو فدا کرنے والی زندگیاں ہیں جو وہ گزار رہے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو دنیا کے غلط اصول کے مطابق تینتیس فیصد کام کر کے کامیاب ہونے کی امید رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جو قانون قرآن کریم میں وضع کیا ہے وہ یہ ہے کہ پاس ہونے کے لئے کم از کم پچپن فیصد نمبروں کی ضرورت ہے استثنائی صورت اس کے علاوہ ہے۔اگر ہم انسانی اقدار کو قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں خدمت کی روح کو زندہ کرنا پڑے گا۔اور اس خدمت کی زندہ روح کو لیکر کام کے میدان میں سرگرم عمل رہنا خدام الاحمدیہ کا ضروری پروگرام ہے۔خدام الاحمدیہ اس نقطہ کو سمجھتے ہوئے اس کام میں لگ جائیں کیونکہ خدمت اسلام واحمد بیت تقاضا کرتی ہے خدمت انسان کا۔جو شخص انسان کی خدمت نہیں کرتا وہ احمدیت کی خدمت نہیں کرتا۔پس خدام الاحمد یہ روح خدمت کے ماتحت اپنے پروگراموں پر عمل کریں اور انصار اللہ روح تربیت کو زندہ رکھتے ہوئے اپنے پروگرام پر عمل کریں۔روح تربیت بھی روح خدمت ہی ہے صرف اس کی شکل بدلی ہوئی ہے۔اس لئے ہر دو تنظیمیں اس طرح بنی نوع انسان کی خدمت میں لگ جائیں اور لگی رہیں کہ اپنے نفسوں کا بھی خیال رکھیں ، اپنے رشتہ داروں اور عزیز واقارب کا بھی خیال رکھیں، پھر یہ دائرہ وسیع ہوتا چلا جائے یہاں تک کہ وہ تمام بنی نوع انسان کو اپنے اندر