تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 68 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 68

تاریخ احمدیت۔جلد 25 68 سال 1969ء حاصل کرنی چاہیے۔خدا جانے آپ میں سے کس کو یہ توفیق ملے کہ وہ ساری دنیا میں تعلیم القرآن کی 70۔کلاسیں کھولنے کا کام کرے۔۲۰ جون ۱۹۶۹ء کو حضور نے فرمایا کہ احباب ڈیڑھ سال کے عرصہ میں زیادہ سے زیادہ محنت اور توجہ سے قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے کی کوشش کریں اور جو قرآن کریم ناظرہ پڑھ چکے ہیں وہ ترجمہ سیکھ لیں۔حضرت سید ہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا خطاب جامعه نصرت ربوہ کا جلسہ تقسیم اسناد و انعامات مورخہ ۴ مئی ۱۹۶۹ء کو لجنہ ہال میں منعقد ہوا۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے صدارت کے فرائض سرانجام دیے۔تقسیم انعامات کے بعد حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے طالبات سے ایک روح پرور خطاب فرمایا جس کا متن درج ذیل ہے:۔”خدا حافظ و ناصر ہو۔جہاں جاؤ جہاں رہو نیک نمونہ بن کر رہو۔کبھی آپ اکیلی غیر ماحول میں بھی ہوں گی مگر ایک نیک صداقت شعار، روحانیت اور ایمان سے معمور فرد کی شخصیت بھی اپنی ذات میں ایک ماحول بن سکتی ہے۔انسان جہاں اور جس ماحول میں جاتا ہے اس پہ اس ماحول کا اثر ضرور ہوتا ہے لیکن جو شخصیتیں اپنے اندر آہنی عزم رکھتی ہیں وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہوتی ہیں وہ ماحول کے سانچہ میں نہیں ڈھلتیں بلکہ ماحول کو اپنے سانچہ میں ڈھال لیتی ہیں اور اسے اپنے لئے ساز گار بنا لیتی ہیں۔تم بھی جہاں رہو اپنی جاذب شخصیت کے ذریعہ اپناما حول خود پیدا کرو۔میری نصیحت یہی ہے کہ کسی غلط ماحول سے کبھی متاثر نہ ہونا بلکہ ماحول کو اپنے زیر اثر لاؤ۔اپنے کردار اور عمل میں مطابقت پیدا کریں۔آپ اپنے الفاظ واقوال سے ہی تبلیغ نہ کریں بلکہ اپنے عمل سے بھی تبلیغ کریں۔آپ نے صرف غیر از جماعت لوگوں کو ہی اپنے نمونہ سے کھینچنا نہیں ہے بلکہ اپنی کمزور احمدی بہنوں کی کمزوری کو بھی اخلاق سے، پیار سے، اپنے دل موہ لینے والے پاکیزہ عمل سے دور کرنے میں ہمیشہ کوشاں رہنا ہے۔کسی کے پاس کسی کی برائی یا شکایت کبھی نہ کریں۔خود ہی محبت سے موقع مناسب دیکھ کر ان کی غلطی کی طرف ان کو بہت اپنائیت سے متوجہ کریں۔یہ بھی ہم سب کا فرض ہے یعنی اپنوں اور اپنے گھروں کی اصلاح۔