تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 66 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 66

تاریخ احمدیت۔جلد 25 66 سال 1969ء سے جب میں نے اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں اور نعمتوں کو جانچا جو ہماری ایثار اور قربانی اور تقویٰ دیکھ کر اس نے کیا تو میں نے یہ دیکھا کہ۵۰ء کو اگر سوتصور کیا جائے جو ہے یہ ۴۷ ء کے پارٹیشن اور وہ بھی ایک دور تھا قیامت کا جس میں سے ہم گزرے تھے بڑا زلزلہ اور دھکا تھا جو جماعت کو پہنچا تھا۔غرض ۵۰ ء کو اگر سو سمجھا جائے تو ۶۰ء میں ہمارے ایثار اور قربانی کی برکات میں اتنی زیادتی ہو چکی تھی کہ وہ کم و بیش ۱۴۰۔۱۵۰ کے درمیان بن گئے یعنی پچاس فیصدی اضافہ اللہ کے فضل نے ہمارے ایثار میں کیا تھا اور اگر ۵۰ء کا ۶۹ ء سے مقابلہ کیا جائے تو سو کے مقابلہ میں ۳۴۸ کا فرق ہے یعنی ۳۵۰ زیادہ۔ان نعمتوں کے نتیجہ میں ترقی اور بڑھوتی اور نشو ونما اور حسن کا نکھرنا کوئی نام آپ دے دیں وہ ایثار کے ، قربانی کے اور محبت کے جذبات میں ہمیں نظر آتا ہے۔کتنا بڑا افضل ہے بیس سال میں ۱۰۰ سے قریباً ساڑھے تین سو تک پہنچا دیا۔اس جائزہ سے ایک یہ بھی پتہ لگتا ہے جیسا کہ آپ میں سے جو Statistics اور حساب سے تعلق رکھتے ہیں فوراً ان کا ذہن اس طرف منتقل ہوا ہو گا کہ جس رفتار سے ہماری ترقی ۶۰ ء اور ۶۹ ء کے درمیان ہوئی کیونکہ ۵۰ ء سے ۶۰ ء تک ہم ۱۱۰ سے ۱۴۵ تک سمجھو پہنچے تھے۔اللہ تعالیٰ کا اتنابڑا فضل اور احسان ہمیں نظر آتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ یہ مادی پیمانہ ہے لیکن جب ایثار کے مادی مظاہرے ہمیں نظر آتے ہیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ان کے پیچھے جو روح ہے اس میں بھی ایک جوانی اور قوت اور حسن اور احسان پیدا ہوا ہے قریباً اسی نسبت کے ساتھ۔باقی یہ صحیح ہے کہ تقویٰ اور تزکیہ کا علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں اور اس نے ہمیں یہ کہا ہے کہ نہ اپنے کو نہ اپنوں کو متقی اور پر ہیز گار سمجھونہ اس کا اعلان کرو۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون متقی ہے اور کون اپنے انجام تک متقی رہے گا۔دنیا میں ابتلا بھی آتے ہیں۔پس ایک تو ہمیں اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں اور نعمتوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کا بے حد، بے انتہاء شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس کے فضل کے بغیر ایک سانس لینا بھی مشکل ہے۔کتنا فضل تھا کہ جس نے ہمیں سانس لینے کی اجازت دی اور ہمیں سو سے بڑھا کر ۳۵۰ تک پہنچا دیا اور شکر کے ان جذبات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اور بھی زیادہ