تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 64 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 64

تاریخ احمدیت۔جلد 25 64 سال 1969ء بہت اخلاص سے کام لیا ہے۔متعدد خواتین نے اپنے زیورات اس غرض کے لئے پیش کئے ہیں۔بعض خواتین نے اپنا نام ظاہر کرنا بھی پسند نہیں کیا۔اس موقع پر ایک نو مسلمہ خاتون کا جو بیرون پاکستان سے تشریف لائیں ذکر کرنا ضروری ہے۔انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی خدمت میں تین انگوٹھیاں پیش کیں۔ایک انگوٹھی فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے اور دو انگوٹھیاں دوسرے دو اداروں کے لئے۔حضور نے ایک انگوٹھی ادارہ فاؤنڈیشن کو بھجوا دی اگر چہ اس انگوٹھی کی قیمت چالیس پچاس روپے تھی۔لیکن اس پر لفظ اللہ نہایت خوبصورت طور پر کندہ تھا۔مختلف زرگروں سے دریافت کیا گیا سب چالیس پچاس روپے قیمت بتاتے رہے۔حضور کی خدمت میں عرض کیا گیا حضور نے فرمایا چند دن اور انتظار کریں۔ماہ ڈیڑھ ماہ کے بعد حضور نے فرمایا۔آکشن کر دیں اور بتادیں کہ ایک نومسلمہ نے فضل عمر فاؤنڈیشن کے لئے یہ انگوٹھی بھجوائی ہے چنانچہ اس کے بعد جب اسے آکشن کیا گیا تو ایک دوست نے - 101 روپے میں اس انگوٹھی کو خرید کر قیمت فاؤنڈیشن کو ادا کر دی۔اپنے وعدوں کی ادائیگی میں خواتین نے بہت مستعدی دکھائی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے اور اپنی برکتوں سے نوازے۔آمین منظور شدہ قواعد وضوابط کے مطابق محترم شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت احمدیہ کوئٹہ و بلوچستان ۳۱ دسمبر ۱۹۶۸ء کو فضل عمر فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر شپ سے ریٹائر ہو گئے۔محترم شیخ صاحب موصوف نے مرکز سلسلہ سے دور رہائش ہونے کے باوجود تین سال تک نہایت اخلاص کے ساتھ فاؤنڈیشن کے کاموں میں امداد فرمائی۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء محترم شیخ صاحب کے ریٹائر ہونے پر محترم مرزا عبدالحق صاحب امیر صوبائی مغربی پاکستان کو یکم جنوری ۱۹۶۹ء سے تین سال کے لئے فاؤنڈیشن کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔گذشتہ سال بھی ایک نئے ڈائریکٹر کا تقرر ہوا تھا۔یعنی مکرم چوہدری احمد جان صاحب کی ریٹائر منٹ پر مکرم چوہدری محمد انور حسین صاحب ایڈووکیٹ شیخو پورہ ان کی جگہ یکم جنوری ۱۹۶۸ء سے تین سال کے لئے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔خاکسار محمد عطاء اللہ حسب قواعد وضوابط ۳۱ دسمبر ۱۹۶۸ء کو ڈائر یکٹر شپ سے ریٹائر ہو گیا۔فاؤنڈیشن نے یکم جنوری ۱۹۶۹ء سے تین سال کے لئے ڈائریکٹر مقرر فرما کر مزید خدمت کی سعادت کا موقع عطا فر مایا۔فالحمد للہ۔68۔