تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 39
تاریخ احمدیت۔جلد 25 39 سال 1969ء چاہے کوئی اور کام کرے۔اسلام نے آمد اور خرچ دونوں پر پابندیاں لگائی ہیں۔لیکن ان میں بڑی وسعت ہے۔اگر کسی کا دماغ اچھا ہے تو وہ تجارت میں جتنا چاہے کمالے۔وہ ایک کروڑ روپیہ بھی کمالے تو اس پر کوئی پابندی نہیں۔شرط صرف یہ ہے که حلال ذرائع سے کمائے لیکن جب خرچ کا وقت آتا ہے تو اسلام نے بعض پابندیاں لگائی ہیں۔مثلاً اس نے کہا ہے فضول خرچ نہ کرو، سادہ زندگی گزار و اور عیش کی تو اس نے ساری چیزیں ہی ختم کر دی ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا ہے کہ تمہارا مال تمہارا نہیں اس میں دوسروں کا بھی حصہ ہے۔لہذا اس میں سے دوسروں کا حصہ نکالو اور حکومت سے کہا ہے کہ تم ان سے دوسروں کا حصہ لو۔اس طرح اسلام کمیونزم کے بھی خلاف ہو گیا کیونکہ اسلام نے آمد کے سلسلہ میں کسی فرد پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔وہ جتنا چاہے کمائے۔پھر اسلام سرمایہ داری کے بھی خلاف ہے۔کیونکہ اس نے افراد پر خرچ کے بارہ میں بہت سی پابندیاں لگا دی ہیں۔جو شخص خالص سرمایہ دار ہے وہ تو ایک لاکھ روپیہ کے ہوتے ہوئے بھی کمی محسوس کرتا ہے۔مثلاً وہ کہتا ہے کہ فلاں تصویر پانچ لاکھ روپیہ میں ملتی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ وہ خرید لوں لیکن روپیہ پاس نہیں اس لئے اپنی خواہش کو پورا نہیں کر سکتا۔لیکن اسلام ایسے اخراجات کی اجازت نہیں دیتا اور نہ صرف اجازت نہیں دیتا بلکہ ایک مسلمان سے دوسروں کے لئے کچھ لے بھی لیتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اس کا تمہیں ثواب ملے گا یعنی خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ تم دوسروں کا حق دو میں تمہیں ثواب دوں گا۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ کی یہ کتنی رحمت ہے کہ وہ ایک طرف کہتا ہے اس مال میں جو تمہارے پاس ہے دوسروں کا بھی حق ہے تم ان کا حق دو اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اگر تم دوسروں کا حق دو گے تو ہم ثواب دیں گے۔جولوگ یہ شور مچاتے ہیں کہ اسلام اور سوشلزم ایک ہی ہیں وہ غلطی پر ہیں۔اسلام اسلام ہی ہے۔یہ نہیں کہ اسلام کسی خاص شکل اور قسم کے کمیونزم کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اسلام کسی قسم کے سوشلزم کی بھی اجازت نہیں دیتا۔اگر سوشلسٹوں کے نزدیک اسلام اور سوشلزم میں کوئی فرق نہیں تو وہ مسلمان