تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 30 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 30

تاریخ احمدیت۔جلد 25 30 سال 1969ء جد و جہد کا آغاز ہو چکا ہے۔اگر ان نو بیدا ر نا خداؤں میں سے بعض کو پھر نیند آ جائے تو؟ مانا کہ یہ اٹھ کر سو جانیوالے غافل، بیداری کی اس عظیم الشان اور عالمگیر لہر کی راہ میں حائل نہ ہو سکیں گے جس کا آغاز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تموج خیز ندائے آسمانی سے ہوا، مانا کہ جو نا خدا اٹھنے لگے ہیں اٹھتے رہیں گے اور نا خداؤں کا طائفہ اپنی جمیعت اور قوت میں بڑھتا ہی رہے گا لیکن خود ان کا کیا بنے گا؟ اور ان کی غفلت نجات کی آخری فتح کی گھڑی کو کس حد تک پیچھے پھینک دے گی؟ جب میں ان مجالس یا خدام کو دیکھتا ہوں جو اسی قسم کی ایک خوابیدہ یا نیم خوابیدہ زندگی بسر کر رہے ہیں تو اسی قسم کے کئی سوال میرے دل و دماغ کو رنجوں اور فکروں کا ایک طلسم پیچ و تاب بنا دیتے ہیں۔طلا 66 میں اپنے ان عزیزوں بھائیوں سے جو اپنے اپنے دائرے میں خدام الاحمدیہ کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں، بمنت عرض کرتا ہوں کہ اس نوبت کو ذرا اور تیزی سے بجائیں اور آسمان کے نیچے ایک ایسا شور اور غلغلہ بپا کردیں کہ سونے والوں کے کان پھٹنے لگیں اور نیند کے چکر اس ارتعاش کی شدت سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جائیں۔پھر ایسا ہو کہ کسی ناخدا کے لئے ممکن نہ رہے کہ ماحول کی ہلاکت سے بے پرواہ ہو کر مجرمانہ نیند کے مزے لوٹ سکے۔۳۔امتِ موسوی کو اگر اپنے آقا کی پیروی میں زیادہ سے زیادہ کوہ طور کی رفعتوں تک بلندی عطا ہو سکتی تھی اور اپنے رب کی صرف وہی شان ان پر ظاہر ہوسکتی تھی جو موسیٰ علیہ السلام پر ظاہر ہوئی مگر امت محمدیہ کے لئے اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ماوراء الطور کی رفعتیں لکھی گئی ہیں جنہیں قرآن کریم فوزاً عظيماً کے الفاظ سے یاد کرتا اور کبھی فاوليْكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمُ (النساء:۷۰) کی خوشخبری دے کر بیان فرماتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام امت محمدیہ اور گذشتہ تمام امتوں کے درجات کے اس فرق کو اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ :