تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 369 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 369

تاریخ احمدیت۔جلد 25 369 سال 1969ء کی جس میں ان مسلمان شہداء کی طرف بھی اشارہ کیا جنہوں نے یوگنڈا میں مذہب کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں اور کہا کہ ان کے دل میں مذہب اسلام کی بہت عزت ہے۔احمد یہ مشن ججہ کی طرف سے بھی انہیں اسلامی اصول کی فلاسفی کا ایک نسخہ بذریعہ ڈاک بھجوایا گیا۔پوپ صاحب کو ترجمہ قرآن کریم پیش کرنے کی خبر نیروبی کے اخبار ڈیلی نیشن اور دیگر سب ملی اخباروں میں فوٹو کے ساتھ شائع ہوئی۔پاکستانی اخبارات نے بھی اس کی خبر دی چنانچہ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۶ ستمبر ۱۹۶۹ء میں یوں خبر آئی:۔" کراچی۔مشرقی افریقہ کے حالیہ دورے کے دوران پوپ پال ششم کو قرآن مجید کا تحفہ پیش کیا گیا۔یہ تحفہ احمدیہ فرقے کے افریقہ میں مبلغ ڈاکٹر ایل۔ڈی احمد نے فرقہ کے سر براہ مرزا ناصر احمد کی طرف سے پیش کیا ہے۔پوپ نے قرآن مجید کے تحفہ کو عزت و تکریم سے قبول کرتے ہوئے اظہار تشکر کیا۔اور اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میری خواہش تھی کہ میں افریقہ بھر میں پھیلی ہوئی مسلمانوں کی اقلیت کو ہدیہ تبریک پیش کروں۔انہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ امر باعث صد مسرت ہے کہ مجھے مسلمانوں کے نمائندوں سے ملنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔پوپ نے کہا کہ آئیے ہم مل کر رب قدیر وجلیل کے سامنے دست دعا دراز کریں کہ وہ ہم میں عفو و صلح کا داعیہ پیدا کر دے جس کی قرآن اور بائبل میں بکثرت تعریف و توصیف کی گئی ہے۔واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پوپ کو قرآن مجید کا تحفہ پیش کیا گیا ہے۔“ صوفی صاحب نے عرصہ زیر رپورٹ میں کالجوں اور سیکنڈری سکولوں میں کامیاب لیکچر دئے جسے سامعین نے بہت پسند کیا چنانچہ Teso کالج (سروئی) میں آپ کا ایک لیکچر اسلام عہدِ حاضر میں (Islam in this Modern Age) کے موضوع پر ہوا۔لیکچر کے وقت کمرہ طلباء سے بھرا ہوا تھا۔لیکچر کے اختتام پر انگریز اسٹنٹ پرنسپل نے کہا "astule lecture It was a very" یعنی یہ ایک بہت فاضلانہ لیکچر تھا۔لیکچر کی صدارت مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر نے کی اور اپنے صدارتی ریمارکس میں کہا کہ یہ لیکچر نہایت بلند پایہ ہے۔لیکچر کے بعد صوفی صاحب نے اسلامی لٹریچر کا ایک سیٹ جو تقریباً چالیس کتب پر مشتمل تھا کالج کو بطور تحفہ پیش کیا۔اس لیکچر کا انتظام محمد ابراہیم صاحب کھوکھر نے کیا۔آپ کا ایک لیکچر گلو میں سرسیموئیل بیکر ہائی سکول کے وسیع ہال میں ہوا۔آپ نے اسلام پر ایسے رنگ میں لیکچر دیا کہ مسلمان طلباء اپنے مذہب پر فخر کر سکیں نہ یہ کہ احساس کمتری کا