تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 367
تاریخ احمدیت۔جلد 25 367 سال 1969ء یوگنڈا یشن جس کے مبلغ انچارج اُن دنوں صوفی محمد الحق صاحب تھے اشاعت دین کے لئے انفرادی اور اجتماعی ذرائع بروئے کارلانے میں شب و روز کوشاں رہا نیز تالیف و تصانیف کی اشاعت میں بھی مثالی خدمات سرانجام دیں جس کا کسی قدر اندازه صوفی صاحب کی اس رپورٹ سے بخوبی ہوتا ہے جوان کے قلم سے الفضل ۳ ہم وے مارچ ۱۹۷۰ء میں چھپی اور صرف آٹھ ماہ کی سرگرمیوں پر مشتمل تھی۔ان دنوں یوگنڈا کے پرائمری سکولوں میں ایک کتاب ورلڈ ہسٹری (World History) دیکھنے میں آئی۔اس کتاب کے صفحہ ۸۴ پر لکھا تھا کہ قرآن کے اندروحی کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال بھی درج ہیں۔یہ کتاب ہنوز بطور نصاب مقررنہیں ہوئی تھی تاہم اندیشہ تھا کہ اسے داخل نصاب نہ کر لیا جائے۔اس لئے صوفی محمد الحق صاحب نے وزیر تعلیم یوگنڈا کو اس گمراہ کن صورتحال سے آگاہ کرنے کے لئے ایک احتجاجی مراسلہ بھیجوایا اور اس کی نقول پریس، یوگنڈا پارلیمنٹ کے مسلمان ممبران ، مفتی یوگنڈا، کتاب کے برطانوی ناشرین، امام مسجد فضل لندن اور انچارج مبلغین تنزانیہ و کینیا کوبھجوائیں۔اس احتجاج کا نتیجہ یہ ہوا کہ لندن سے اس کتاب کے ناشرین نے معذرت کی اور وعدہ کیا کہ وہ اگلے ایڈیشن میں اس غلطی کا ازالہ کر دیں گے۔چوہدری محمود احمد صاحب پرنسپل بشیر ہائی سکول کمپالا نے اپنی تعلیمی مصروفیتوں کے باوجود خاص طور پر دو نہایت اہم تبلیغی مواقع پیدا کئے۔ایک یہ کہ کمپالا میں حکومت یوگنڈا کے زیر انتظام ایک ایجو کیشن اور لیبر سیمینار منعقد ہوا جس میں مختلف ملکوں کے وفود نے شرکت کی جس میں چوہدری صاحب نے سیمینار کے پاکستانی، اردنی اور مصری وفود کے ارکان کو مشن میں چائے پر بلایا جس میں صوفی محمد الحق صاحب ججہ سے کمپالا تشریف لائے اور سب کو جماعت احمدیہ کا سواحیلی ، لوگنڈی، انگریزی، عربی ،فرانسیسی اور اردو لٹریچر دکھایا جو نہایت قرینہ سے میزوں پر رکھا تھا۔نیز جملہ ارکان کو جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض و غایت اور خدمات سے متعارف کرایا۔سبھی نے جماعت کی دینی مساعی کی بہت تعریف کی اور ہر ایک نے کچھ نہ کچھ لٹریچر لیا۔مصری وفد کے ایک رکن نے شیخ محمد احمد صاحب مظہر کی کتاب انگلش ٹریسٹڈ ٹو عربیک (English Traced to Arabic) مصر میں اس موضوع پر ریسرچ کرنے والے ایک پروفیسر کے لئے حاصل کی۔دوسرا تبلیغی موقع بھی چوہدری محمود احمد صاحب کے ذریعہ کمپالا میں پیدا ہوا۔اور وہ یہ کہ انہوں