تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 365
تاریخ احمدیت۔جلد 25 365 سال 1969ء لئے مشن ہاؤس میں زائرین کی خوب چہل پہل رہی۔آنے والوں کا تعلق یورپ، افریقہ اور ایشیا کے ممالک کے ساتھ تھا۔سب سے زیادہ تعداد ہالینڈ کے زائرین کی تھی جن کی بھاری اکثریت مختلف مذہبی تنظیموں ، سوسائٹیوں اور سکولوں کے وفود اور سرکاری محکموں کے نمائندوں اور سر براہوں پر مشتمل تھی۔مثلاً Zoetermeer کا ریفارڈ چرچ، ہیگ کے ایک مضافاتی شہر کا ایک ہائی سکول، NTS ہالینڈ ٹیلی ویژن سروس کے ڈائریکٹر، نمائندہ ریڈیو ہالینڈ ، ایک عجائب گھر کے بیالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ، کیتھولک نوجوانوں کی تنظیم KWJ کے ممبران ، لنڈ کے ایسٹرن آرٹ ڈیپارٹمنٹ کے انچارج، Kerken کی عیسائی تنظیم، ڈائریکٹر آف یوروپین ٹرانسلیشن بورڈ Vormings ، پبلک یونیورسٹی ہیگ کا گروپ، ہیگ کے مضافاتی قصبہ Vourchoten کے طلباء کا گروپ، نیز Wassenaar کے شہروں سے دو وفود۔ان زائرین میں Dr۔Konijnen Burg خاص طور پر قابل ذکر تھے کیونکہ وہ ملک کے اعلی تعلیم یافتہ اور دانشور طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور اسلام پر معلومات کے لئے کئی بار مشن ہاؤس آئے اور بعض جلسوں میں بھی شرکت کی۔پبلک جلسے : اس سال مشن ہاؤس میں موسم سرما کے پروگرام کے تحت متعدد کامیاب پبلک جلسے منعقد ہوئے۔مقررین میں مسٹر نمبرگ (Mr۔Gimberg)،مسٹر محمود اسمعیل آف فرینکفرٹ، ڈاکٹر وی۔ڈی۔مولن (Dr۔V۔D۔Meulen۔سابق سفیر ہالینڈ متعینہ سعودی عرب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ہالینڈ مشن کی دینی اور علمی مساعی کو موثر رنگ میں وسیع کرنے اور ملک کے چپہ چپہ تک اس کے اثرات کو پھیلانے میں ملک کے ذرائع ابلاغ یعنی ریڈیو، ٹیلی ویژن اور پریس نے بھر پور کردار ادا کیا۔پہلا جلسہ مورخہ ۱۰ را کتوبر ۱۹۶۹ء کو منعقد ہوا۔اس جلسہ میں بدھسٹ انسٹی ٹیوٹ آف دی ہیگ تقر کے ڈائریکٹر، انجینئر Bloemsma نے ”دور حاضر میں مذہب کے کردار کے عنوان پر کی۔تقریر کے بعد سامعین کو سوال کرنے کا موقع بھی دیا گیا۔اس جلسہ کی صدارت مکرم عبدالحکیم الکمل صاحب امام مسجد ہالینڈ نے کی۔دوسرا جلسہ ۲۲ /اکتوبر ۱۹۶۹ء کو منعقد ہوا۔اس میں ایمسٹر ڈیم یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے پروفیسر ڈاکٹر بروئن نے علوم ریاضی و الجبراء پر عربی کلچر کا اثر“ کے عنوان پر تقریر کی۔اس قسم کے جلسے مورخہے نومبر ۱۴ نومبر اور دسمبر کو بھی منعقد کئے گئے۔ان جلسوں میں معززین شہر اور اونچے تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد حاضر ہوتے رہے۔