تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 357
تاریخ احمدیت۔جلد 25 357 سال 1969ء گہوارہ بن چکا ہے اور ر بوہ پاکستان میں قائم ہے ) کے نقش قدم پر دنیا کے بہت سے ممالک میں ایسے تعلیمی ادارے قائم ہو چکے ہیں اور مزید قائم ہوتے چلے جارہے ہیں اور ہر ملک کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔کالج کی دیگر سرگرمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ گورنمنٹ کی طرف سے کوئی مالی امداد لئے بغیر جماعت احمدیہ نے سکول کی یہ شاندار عمارت اپنی مدد آپ کے اصول پر تعمیر کی اور اب اس سال کے دوران سائنس لیبارٹری کو بھی کافی حد تک ضروری سامان سے آراستہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے بعد مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر نے کالج کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ازاں بعد وزیر تعلیم ماریشس مسٹر آر۔جمعدار نے اپنی تقریر میں اس بات پر اظہار مسرت کیا کہ جماعت احمدیہ نے مذہبی اور سوشل خدمات بجالانے کے ساتھ ساتھ اب تعلیمی میدان میں بھی ملکی خدمات انجام دینے کا آغاز کر دیا ہے جو ماریشس کے تمام لوگوں کے لئے قابل نمونہ اور لائق تقلید ہے۔آپ نے فرمایا بالعموم لوگ تمام کاموں کی ذمہ داری گورنمنٹ پر ڈال دیتے ہیں مگر جماعت احمد یہ اپنی مدد آپ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ لوگوں کے لئے نمونہ کا کام دیتی ہے تقسیم انعامات کی تقریب کے بعد وزیر تعلیم صاحب اور دوسرے معززین نے کیمسٹری کی تجربہ گاہ کا معاینہ کیا اور لیبارٹری کی شاندار عمارت، اس کی تزئین و آرائش اور صفائی پر نہایت درجہ خوشی کا اظہار کیا۔ملائیشیا 130 مخالفتوں کے باوجود ملائیشیا میں اشاعت حق کا سلسلہ زور و شور سے جاری رہا چنانچہ مولوی بشارت احمد صاحب امروہی مبلغ ملائیشیا نے اپنی سالانہ رپورٹ ۱۹۶۹ء میں تحریر فرمایا کہ عرصہ زیر رپورٹ میں عوام کے تقریباً تمام طبقہ جات کے ساتھ ملنے اور موقع کی مناسبت سے پیغام حق پہنچانے کی کوشش کی گئی۔اعلیٰ اور تعلیم یافتہ طبقہ تک پہنچ کر بصورت تبادلہ خیالات یا لٹریچر پیغام حق پہنچایا گیا۔ایسے طبقہ میں گورنمنٹ کے اعلیٰ واد فی ملازمین مال ، صحت، تعلیم ، پولیس وغیرہ محکمہ جات میں کام کرنے والے افسر و کلرک شامل ہیں۔اسی طرح تجارت پیشہ احباب، دکاندار، اساتذہ، طلباء وطالبات، مزدور و پیشہ ور احباب، مذہبی راہنما اور زمیندار بھی شامل ہیں۔اسی طرح اسلام اور احمدیت کے متعلق غلط پراپیگنڈے کے ازالہ کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔سفر کے دوران یا قیام کی صورت میں احباب سے