تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 344 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 344

تاریخ احمدیت۔جلد 25 344 سال 1969ء بھی اس ملک کے اسی طرح باشندے ہیں جس طرح دوسرے لوگ۔وہ بھی اپنے دوسرے ہم وطنوں کی طرح ٹیکس ادا کرتے ہیں۔غانا کے شہریوں کی حیثیت سے ان کے حقوق کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ان کی جو حق تلفی ہوتی رہی ہے اس کی موجودہ جمہوری حکومت کو پوری پوری تلافی کرنی چاہیے۔آپ نے حاضرین کو بتایا کہ احمدیہ مشن غانا کو جس کے وہ انچارج ہیں اس ملک کے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے میں اولیت کا شرف حاصل ہے۔مشن ملک میں واحد مسلم ایجوکیشنل یونٹ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی یہ حیثیت وزارت تعلیم کی طرف سے تسلیم شدہ ہے۔مشن اس وقت چار سیکنڈری سکول اور چھتیں پرائمری اور مڈل سکول چلا رہا ہے۔ان تمام سکولوں میں اسلامی تعلیم کی پوری پوری سہولتیں موجود ہیں۔آخر میں آپ نے سنٹر فار سوک ایجوکیشن کے عہد یداروں سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کے اس خدشہ کو دور کرنے میں ہاتھ بٹائیں کہ فی زمانہ سکولوں میں کوئی انہیں اپنا عقیدہ ترک کر کے کوئی دوسرا عقیدہ اختیار کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ساتھ ہی آپ نے چرچ کو نیز سکولوں اور اداروں کے عیسائی سربراہوں کو مشورہ دیا کہ وہ رواداری سے کام لیں اور اپنے مسلمان طلباء کے بارہ میں نرم پالیسی اختیار کریں۔انہوں نے مسلمان بھائیوں کو یقین دلایا کہ احمدیہ مسلم مشن ان کی ہر ممکن خدمت بجالانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھے گا۔وہ ان کے ساتھ پورا پورا تعاون کرنے اور ہر ایسے اقدام میں جسے وہ اس ملک کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے مفید اور ضروری خیال کریں ، ان کے ساتھ دل وجان کے ساتھ شریک ہونے اور ان کا پورا پورا ساتھ دینے کے لئے ہر وقت تیار 118 في ۲۵ مئی ۱۹۲۹ء کوسید ظہور احمد شاہ صاحب انچارج احمد یہ مشن نبی نے جماعت کے پہلے پرائمری سکول لٹو کا کا افتتاح کیا۔اس موقع پر احباب جماعت کے علاوہ غیر از جماعت حضرات بھی مدعو تھے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے سکول کی تعمیر پر خوشی کا اظہار کیا اور مبارکباد دی اور بتایا کہ اس علاقہ میں یہ پہلا سکول ہے۔ریڈ یونجی نے انگریزی، ہندوستانی اور نجین زبانوں میں اس سکول کی خبر نشر کی۔اس سال کے آخر میں سکول میں ایک مزید پختہ کمرہ کا اضافہ ہوا جس کی تعمیر کے جملہ اخراجات حاجی محمد رمضان خان صاحب آف ناندی نے ادا فرمائے۔اس احمدیہ پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد حسین صاحب تھے اور دیگر سٹاف میں ایک احمدی نوجوان، ایک ہند و مدراسی ٹیچر لیں اور ایک ہندو تھے۔