تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 340 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 340

تاریخ احمدیت۔جلد 25 340 سال 1969ء پاکستانی بھائی اس رنگ میں سیرالیون کی خدمت کر رہے ہیں۔یہ در حقیقت پاکستان ہی کی خدمت ہے۔مولوی محمد صدیق صاحب گورداسپوری نے انہیں قرآن کریم انگریزی اور تفسیر صغیر تحفہ پیش کی جس کا انہوں نے نہایت خوشی کے ساتھ دلی شکریہ ادا کیا۔آپ کے سیکرٹری جناب علی حسین صاحب کو بھی تفسیر صغیر تحفہ پیش کی گئی۔غانا 113 جماعت احمد یہ غانا کا چوالیسواں کامیاب جلسہ سالانہ ۹ تا ۱۱ جنوری ۱۹۶۹ء کو بمقام سالٹ پانڈ سمندر کے کنارہ پر انعقاد پذیر ہوا۔اس مبارک اجتماع میں چھ ہزار افریقن احمدیوں نے شرکت فرمائی۔کانفرنس کا افتتاح امیر صاحب غانا مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم نے فرمایا اور اختتامی اجلاس کی صدارت جناب محمد آرتھر صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ غانانے کی۔یوسف علی صاحب وزیر تعمیرات مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو تھے۔آپ نے اپنی تقریر میں جماعت احمدیہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ احمدیت نے احیاء اسلام کی بنیاد رکھی ہے۔احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کے مشعل بردار ہیں۔ملک کے نامور وکیل اور سابق وزیر انصاف جناب بشیر سوانزی نے بڑے دلنشین پیرا یہ میں اپنے قبولِ اسلام کے حالات بیان کئے اور بتایا کہ کس طرح تیرہ سال کی عمر میں مشن بوائے کی حیثیت میں ایک پادری بننے کے لئے داخل ہوا مگر چھیالیس سال کی عمر میں جیل خانہ کی تاریکیوں میں قرآن مجید کا نور ملا اور میں مسلمان ہو گیا۔آج میں اسلام کو سچا مذہب یقین کرتا ہوں۔میرا یقین ہے کہ قرآن مجید غیر محترف غیر مبدل کلام ہے۔آج مسلمان کے ہاتھ میں قرآن مجید سب سے زبر دست طاقت اور ہتھیار ہے۔لا الہ الا اللہ آج بھی سب سے بڑا ذکر ہے۔وزیر زراعت جناب ایلبرٹ اڈوما کو ( Albert Adomoko) نے اپنی صدارتی تقریر میں فرمایا کہ میں ایک عیسائی ہوں اور آپ مسلمان مگر ہم بھائی بھائی ہیں، خدا پر ایمان لانیوالے۔خوشی کی بات ہے کہ غانا میں احمد یہ جماعت مسلمانوں کا معتدبہ حصہ ہے۔میرے نزدیک ہر ایک مذہب ایک ہی مقصد کیلئے کام کر رہا ہے۔ہمارا مقصد امن پسند ، ذمہ دار اور محنت کرنے والی جماعت ہونا چاہیے۔کانفرنس کے دوران جماعت غانا نے مالی قربانی کا شاندار نمونہ دکھاتے ہوئے سات ہزار پانچ سو سیڈیز کی رقم پیش کی۔اس سلسلہ میں سالٹ پانڈ ، ابورا، مان کم اور گومو و سرکٹ علی الترتیب اول اور