تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 23 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 23

تاریخ احمدیت۔جلد 25 ہیں:۔23 سال 1969ء کیا کہ اس سے بہتر الفاظ میں پنجابی زبان میں وہ آپ کو خراج تحسین پیش نہیں کر سکتا تھا۔صرف بلا کہنے پر بھی اس نے اکتفا نہیں کی۔بلکہ بلا بدھی“ کہہ کر بلاغت کی انتہا کر دی کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ بلا با ندھی ہوئی ہے جس کے ساتھ مقابلہ نہیں ہوسکتا۔اس قسم کے بے شمار واقعات دوستوں کے علم میں ہوں گے کہ حضرت حافظ صاحب نے نہایت نقاہت وضعف کی حالت میں کسی تبلیغی موضوع پر گفتگو شروع فرمائی۔رفتہ رفتہ اس موضوع کی لذت سے توانائی حاصل کرتے ہوئے ایسے صحت مند نظر آنے لگے گویا کبھی بیمار ہی نہ تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کی روح کو غریق رحمت فرمائے اور اعلیٰ علیین میں اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں جگہ دے۔ی پروفیسر ڈاکٹر ناصر احمد پرویز پروازی صاحب سابق پرو فیسر تعلیم الاسلام کالج ربوہ رقمطراز 41 خلافت کے ساتھ انتہا کی وابستگی تھی۔پچھلی عید الفطر پر میں حاضر ہوا تو وہاں ایک صاحب بیٹھے تھے۔میں گیا تو وہ صاحب اٹھے اور حضرت حافظ صاحب سے اپنے پنجابی کے انداز میں کہا ” میں ذرا حضرت صاحب سے مل آؤں ! اپنی دانست میں ان صاحب نے حافظ صاحب سے اجازتِ رخصت چاہی۔لیکن انداز کچھ ایسا تھا کہ فقرہ میں استفہامی رنگ پیدا ہو گیا۔آپ نے سمجھا کہ وہ صاحب یہ پوچھ رہے ہیں کیا میں حضرت صاحب سے مل آؤں؟ حضرت حافظ صاحب کے چہرہ پر اتنا غصہ اور انقباض میں نے پہلی اور آخری بار دیکھا۔آپ نے بڑے غصہ سے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور حاضرین کی طرف کچھ اس طرح دیکھا جیسے کہ رہے ہوں کہ دیکھو اس شخص کو کیا ہو گیا ہے؟ خلافت کے مقام بلند کے لئے اتنی غیرت ! اب تک مری آنکھوں کے سامنے وہ نقشہ ہے اس وقت مجھے احساس ہوا کہ خلیفہ وقت کا مقام کتنا اعلیٰ وارفع مقام ہے اور زبان کی ذراسی لغزش سے سوئے ادب کی صورت نکلتی ہے۔ان صاحب کے چلے جانے کے بعد بھی بہت دیر تک حضرت حافظ صاحب خاموش رہے۔اس شخص کی اس نادانستہ لغزش نے انہیں بڑا دکھ پہنچایا۔یہ واقعہ حضرت حافظ صاحب کی خلافت سے وابستگی اور خلافت کے مقام ارجمند کے ادراک پر دلالت کرتا ہے۔42 مکرم ضیاء الحق صاحب (لاہور) حضرت سید مختار احمد صاحب کے بارے میں بعض واقعات