تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 333 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 333

تاریخ احمدیت۔جلد 25 333 سال 1969ء گورنر جنرل سیرالیون نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جماعت اسلام کی تعلیمات کی جس مفکرانہ اور مستحکم انداز سے تشریح و توضیح کرتی ہے اس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جماعت نے اسلامی علوم کی مشعل کو پھر علماء کی محرابوں سے نکال کر عوام کے ہاتھوں تک پہنچایا ہے۔آپ لوگ اسلامی تعلیمات میں جو ہم سب کو بیحد عزیز ہیں نئی زندگی اور قوت بخش روح پھونک رہے ہیں۔اسلام صلح کا دین ہے۔اس پہلو پر آپ کی جماعت نے بجاطور پر زور دے کر اسلام کی اخلاقی قدروں کو اجاگر کیا ہے۔آپ کی جماعت مذہب کے قدیم تصور کو عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا پیغام دیتی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ احمدیت اسلام کو بدلنا چاہتی ہے۔ہرگز نہیں۔بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ تحریک احمدیت نے یہ ثابت کر دیا ہے اور ثابت کر رہی ہے کہ اسلام اپنے دامن میں جدید دور میں ہر قسم کی صورت حال کیلئے روحانی اقدار کا خزانہ محفوظ رکھتا ہے۔بالفاظ دیگر جماعت احمد یہ ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کی گہرائیوں پر اپنی توجہ مرتکز کریں تا ہمیں ایمان اور یقین کی قوت حاصل ہو اور ہماری زندگیاں روحانی ارتقاء سے ہمکنار ہوں۔اور اس طرح انسانی اخوت اور محبت کا بول بالا ہو۔آپ کی جماعت اپنی عالمگیر تبشیر کی تنظیم کے ذریعہ انسانیت کی اس روح کا بہترین رنگ میں پر چار کر رہی ہے جس کا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔کوئی شخص اس وقت تک حقیقی رنگ میں مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ دوسروں کے لئے بھی وہی کچھ پسند نہیں کرتا جو وہ اپنے لئے چاہتا ہے۔(متن حديث لَا يُومِنُ اَحَدُكُمُ حَتَّى يُحِبَّ لاَ خِيهِ مَا يُحِبُّ لِنفسه ) آپ کی جماعت کی ایک امتیازی خصوصیت جس کا اس ملک کی اکثریت کو اعتراف ہے آپ کے مبلغین کرام کا انکسار، جذبہ ایثار اور احساس فرض ہے۔یہ اس قسم کا انکسار ہے جس میں مادی لذات اور دور حاضر کے جدید علمی غرور کا گذر تک ناممکن ہے۔یہ ایسی کیفیت ہے جو دوسرے انسانوں کو ہمدردی، پیار اور تلطف سے دیکھنے پر مجور کرتی ہے آپ جو خدمت بھی ملت کی کر رہے ہیں وہ آپ کے ذاتی نفع قمع کے لئے نہیں ہے۔آپ نوجوانوں کی نسل کو روحانی اقدار کے صحتمندانہ نظریات سے آشنا کر رہے ہیں اور ایسا کر کے آپ ہماری قوم کو صحتمندانہ بنیادوں پر تعمیر کر رہے ہیں۔گورنر جنرل سیرالیون کے اس پر اثر خطاب سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کا یہ عظیم الشان الہام ایک بار پھر نہایت آب و تاب سے پورا ہوا کہ وہ وقت آتا ہے۔101