تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 331 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 331

تاریخ احمدیت۔جلد 25 331 سال 1969ء ۱۴ را کتوبر کو ایک فلم ”خدا کے کئی نام ہیں دکھائی جاتی ہے جس میں چار مذہبوں کے نمائندگان مقررہ سوالات کے جواب دیں گے۔چنانچہ باہمی مشورہ سے سات سوالات طے کئے گئے۔ہندو مذہب کی نمائندگی کے لئے ایک پروفیسر ڈاکٹر تریپاٹھی آئے ہوئے تھے۔عیسائیت کی نمائندگی ڈاکٹر ہولن دیگر (Dr۔Hollenioeger) کے سپرد ہوئی جو کلیسائی وحدت کی مجلس کے صدر ہیں جس کا مرکز جنیوا ہے۔بدھ مذہب کی نمائندگی جرمن بدھ مذہب کے سیکرٹری ڈاکٹر ہیلیموٹ کلا ( Dr۔Helmut Kala) ہائیڈل برگ کے سپرد ہوئی۔اور اسلام کی نمائندگی چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے کی۔شنٹو ازم کا سوال ٹیڑھا تھا۔باجوہ صاحب نے کہا کہ اسے تو مذہب قرار ہی نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس میں خدا تعالیٰ کا اور نہ ہی حیات آخرت کا تصور ہے۔یہ تو تاج شاہی کی پشت پناہی کیلئے ایک نظریہ بنایا گیا تھا۔شرکا مجلس میں سے کسی نے اس سے اختلاف نہ کیا۔چونکہ شنٹوازم پر فلم دکھائی جانی تھی اس لئے اس کی نمائندگی ضروری تھی۔چنانچہ جاپان یونیورسٹی کے جاپانیات کے سوس پروفیسر شنٹوازم کی طرف سے شریک ہوئے۔۲۸ ستمبر ۱۹۶۹ء کو ڈاکٹر محمد فاضل جمالی سابق وزیر خارجہ عراق نے مسجد محمود میں اسلامی اخلاق پر ایک عالمانہ خطاب کیا۔حاضری خاصی تھی جن میں اکثریت علمی طبقہ کے لوگوں اور سوئس احمدیوں کی تھی۔تقریر کا جرمن ترجمہ ڈاکٹر محمد عز الدین حسن نے سنایا۔سب کی پُر تکلف تواضع کی گئی اور دیر تک سلسلہ گفتگو جاری رہا۔یکم اکتوبر ۱۹۶۹ء کوسوس ٹیلی ویژن کے شعبہ مذہب و تمدن کے سر براہ اپنے نائب اور فلم تیار کرنے والے عملہ کے ساتھ مسجد محمود آئے اور چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ سے مختلف سوالات کے جواب حاصل کئے جو ۱۴ را کتوبر کو ٹیلی کاسٹ کئے گئے جس پر نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلم سوئس کی طرف سے بھی مبارکباد کے خطوط موصول ہوئے۔سوئٹزرلینڈ کے ایک دور دراز علاقہ میں ایک ترک دوست مدتوں سے مقیم تھے جو خاص طور پر آپ کو مبارکباد دینے کے لئے آئے اور بہت داد دی۔زائرین میں بھی اس وجہ سے اضافہ ہوا چنانچہ ایک سوس فیملی کار پر تین گھنٹہ کا سفر طے کر کے محض ملاقات کے لئے پہنچی۔آنے والوں میں جو معاشرہ کے مختلف طبقات سے تعلق رکھتے تھے نائیجیریا کے میٹرولا جیکل ڈائریکٹر ( Meteorological Director) اور ایک شیعہ عالم حاجی محمد صادق صاحب جو جناب آیت اللہ کا شانی کی مسجد کے امام 98