تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 325
تاریخ احمدیت۔جلد 25 325 سال 1969ء کے میئر ڈاکٹر فائے سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں قرآن کریم کا ترجمہ پیش کرنے کی توفیق ملی۔سکولوں اور بعض سوسائیٹیوں کے پانچ وفود مسجد دیکھنے آئے جن کو لیکچر دیا جاتا اور بعد میں سوالات کا سلسلہ شروع ہوتا۔محمود اسماعیل زولش صاحب نے مسجد میں اسلام پر ایک مذاکرہ کا انعقاد کیا جس میں یونیورسٹی کے طلباء اور سکولوں کے اساتذہ نے شرکت کی۔یہ مذاکرہ چھ گھنٹے تک جاری رہا۔مشن کی طرف سے محمود اسماعیل زولش ، جناب ڈاکٹر کیوسی اور مسعود احمد جہلمی صاحب نے حصہ لیا۔اس موقعہ پر جماعت کی طرف سے اسلام کے متعلق شائع شدہ لٹریچر کی نمائش بھی کی گئی۔اسپرانٹو زبان میں ترجمہ شائع ہونے پر مسعود احمد جہلمی صاحب نے بعض اسلامی ممالک مثلاً مصر،سعودی عرب، انڈونیشیا، لیبیا، ایران کے سفراء صاحبان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے سربراہان کو اسپرانٹو زبان میں ترجمہ قرآن کریم کا ایک ایک نسخہ بھجوانے کے لیے دیا۔سپین 66 90 اس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی اور حضرت مصلح موعود کے لیکچر اسلام کا اقتصادی نظام کی ملک بھر میں وسیع پیمانے پر اشاعت ہوئی۔حضرت اقدس علیہ السلام کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی خاص طور پر رائل میڈیکل اکیڈیمی، رائل اکیڈیمی آف ہسٹری، جوڈیشل رائل اکیڈیمی اور رائل اکیڈیمی آف فارمیسی کے ایک سوتین ممبران کو بھجوائی گئی اور ہر حلقہ میں بیحد پسند کی گئی اور اسلام کی اعلیٰ اخلاقی اور روحانی تعلیم کی عظمت و برتری کا اعتراف کیا گیا۔اس سلسلہ میں میڈیکل پروفیسر و ممبر رائل اکیڈیمی آف میڈیسن (D۔Alfonso De La Fuente) اور ایک میڈیکل سکول کے پرنسپل اور رائل اکیڈیمی کے ممبر سر ولا نووا (Sr۔Villa Nova) کے تاثرات کا ذکر تاریخ احمدیت جلد نمبر۱۲ کے صفحہ ۴۱ اور ۴۲ پر گذر چکا ہے۔رائل اکیڈیمی کے ممبر (Exemo Sr۔D) نے مولوی کرم الہی صاحب ظفر انچارج سپین مشن کے نام خط لکھا کہ ”میرے نہایت ہی واجب الاحترام دوست مجھے میڈرڈ سے مجبوراً باہر جانا پڑا۔اس لئے آپ کے خطوط کا جواب کسی قدر تاخیر سے دے رہا ہوں۔آپ کی طرف سے کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی“ بھجوانے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔میں نے یہ کتاب پورے غور اور دلچسپی سے پڑھی ہے اور اس سے پورا فائدہ اٹھایا ہے۔جو چیز