تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 313
تاریخ احمدیت۔جلد 25 313 سال 1969ء ہے اس طرح میں عربی زبان سیکھنے میں بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرسکوں گی تم بھی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد انگریزی بولنے والے لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے 66 تا موجودہ خلا پر ہو سکے۔مندرجہ بالا خطوط خاص اہمیت کے حامل ہیں اس لیے کہ یہ یورپ میں رونما ہونے والے روحانی انقلاب کے آئینہ دار ہیں۔دو سال قبل مسجد فضل لندن کو ایک کمپنی کے ذریعہ پینٹ کروایا گیا تھا جس پر ساڑھے تین سو پاؤنڈ خرچ ہوئے۔اس سال اسے دوبارہ رنگ و روغن کرنے کی ضرورت پیدا ہوئی جس پر خان بشیر احمد صاحب رفیق کی تحریک پر لندن کے احمدی نوجوانوں نے پانچ دن صرف کر کے مسجد فضل اندر اور باہر سے پینٹ کر دی۔یہ مشکل کام تھا خصوصاً اونچائی پر کام کرنا خطرہ سے خالی نہ تھا لیکن خدام نے کمال شوق اور ولولہ خدمت سے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچادیا۔خدا کے گھر کی تزئین اور رنگ و روغن کی یہ عظیم الشان خدمت خواجہ رشید الدین صاحب قمر اور سیکرٹری وقار عمل چوہدری اعجاز احمد صاحب کی زیر قیادت سرانجام پائی جس سے مشن کو قریباً ڈھائی سو پاؤنڈ کی بچت ہوئی اور سارا کام سو پاؤنڈ میں مکمل ہو گیا۔میں جلنگھم میں عرصہ سے ایک مخلص جماعت قائم تھی۔یہاں کے ایک احمدی طفل فرید احمد صاحب ابن لئیق احمد صاحب کھو کھر اُن دنوں اپنے ہم جماعت طلباء میں پورے جوش کے ساتھ اسلامی تعلیم کی اشاعت میں مصروف تھے۔ان کے اسکول میں اسمبلی کے دوران دینیات کے استاد نے اسلام کے خلاف بعض نازیبا کلمات کہے۔یہ بھی کہا کہ قرآن کریم میں کسی قسم کی سماجی اور معاشرتی تعلیم نہیں۔اس پر عزیز موصوف فورا ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس پہنچے اور ان ریمارکس پر احتجاج کیا اور انہیں اسلامی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں سے بھی روشناس کرایا۔ہیڈ ماسٹر صاحب نے اس غیور احمدی بچہ کی جرات ایمانی پر خوشنودی کا اظہار کیا اور استاد کی طرف سے خود معافی مانگی اور وعدہ کیا آئندہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔بعد میں انہوں نے اس استاد کو بھی تنبیہہ کی۔اسی طرح اس نے اپنی تبلیغی کارگزاری میں لکھا کہ میں نے تبلیغ کے لیے اپنے ہم جماعت Mr۔Bradley کو گھر آنے کی دعوت دی۔انہوں نے دعوت قبول کر لی لیکن بعد میں یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ انہیں نارتھمپٹن میں چرچ کے کام کے سلسلہ میں جانا ہے اس لیے وہ نہیں آپا ئیں گے۔لیکن اگلے دن وہ آگئے۔مجھے اس پر حیرت ہوئی۔دریافت