تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 283 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 283

تاریخ احمدیت۔جلد 25 283 سال 1969ء ربوہ پنجاب یونیورسٹی کے امتحان ایم۔اے عربی میں بالترتیب دوئم اور سوئم رہیں۔نیز حلیمہ زاہدہ صاحبہ اور امۃ الرؤف صاحب نے یونیورسٹی میں چھٹی اور ساتویں پوزیشن حاصل کی۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ۱۹۶۹ء میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی سات طالبات ایم۔اے عربی کے امتحان میں شریک ہوئیں۔سبھی نہ صرف پاس ہوئیں بلکہ مذکورہ بالا چار پوزیشنیں بھی حاصل کیں۔مسجد خضر سلطانہ کی تعمیر سیدہ خضر سلطانہ صاحبہ ( وفات ۲۲ جولائی ۱۹۶۴ء) بیوہ محمد یونس صاحبہ دہلوی نے ایک قطعہ واقع محله دارالرحمت وسطی ربوہ مسجد کی تعمیر کے لئے وقف کیا تھا۔اس سال یہاں مسجد خضر سلطانہ تعمیر ہوئی جس کا سنگ بنیا د حضرت سیدہ ام متین صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے ۱۹ جنوری ۱۹۶۹ء کو بعد نماز عصر رکھا۔لیڈی ڈاکٹر سعیدہ اختر صاحبہ آف کراچی ( بنت حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی۔اے مہر سنگھ ) حج بیت اللہ کے بعد میدانِ عرفات اور صفا و مروہ کے دوٹکڑے پتھر کے بطور تبرک ساتھ لائی تھیں اس نیت کے ساتھ کہ خدا کے کسی گھر میں نصب کروں گی۔چنانچہ مسجد خضر سلطانہ کے اندرونی پلستر کے دوران ۴ جولائی ۱۹۶۹ء کو ایک پتھر مولوی محمد صدیق صاحب صدر عمومی نے محراب میں اور دوسرا ملک محمد شفیع صاحب نوشہروی صدر محلہ دار الرحمت وسطی نے نصب کیا۔خدا کے اس گھر کی تعمیر مولوی عبدالرحمن صاحب انور سابق اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ امسیح کی نگرانی میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔قادیان میں یوم جمہوریت 30 ۲۶ جنوری ۱۹۶۹ء کو بھارت کا قومی تہوار یوم جمہوریت تھا۔جو ملک بھر میں منایا گیا۔قادیان دار الامان میں بھی یہ تقریب منائی گئی۔جس میں دیگر شہریوں کے علاوہ باقاعدہ تنظیم سے اور اپنی سابقہ روایات کے مطابق درویشان قادیان کی کثیر تعداد نے اس میں شرکت کی جن میں حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب فاضل امیر جماعت احمدیہ قادیان خاص طور پر قابل ذکر تھے۔جھنڈا لہرانے کی رسم ادا کی گئی تو تمام حاضرین اس کے اعزاز میں کھڑے رہے۔دو احمدی بچوں نے اس موقعہ کے مناسب حال نظمیں سنائیں۔متعدد مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شاعروں نے نظمیں پیش کیں۔آخر میں صدر جلسہ سردار ستنام سنگھ صاحب نے اپنی صدارتی تقریر میں بتایا کہ سب بھارتیوں کی کوششوں ہی سے ملک کی ترقی ممکن ہے۔