تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 17
تاریخ احمدیت۔جلد 25 17 سال 1969ء ترجمانی کے فرائض انہوں نے ہی سرانجام دیئے۔جناب محمد ضیاء الحق صاحب ان ایام کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت حافظ صاحب کے کمرہ میں جگہ تنگ تھی اور آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔نماز صبح کے بعد اور پھر شام کو مستقل تشریف لانے والے بزرگوں میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحب کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔شام کو عموماً حضرت مفتی صاحب آرچرڈ صاحب کو تبلیغ فرمایا کرتے تھے۔جو نہی حضرت مفتی صاحب حضرت حافظ صاحب والے کوارٹر کے بیرونی دروازے میں داخل ہوتے حضرت حافظ صاحب عقیدت اور احترام سے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے۔غالباً وہ حضرت مفتی صاحب کے قدموں کی چاپ پہچانتے تھے اور یہ ایک عملی تلقین ہم ایسے نوجوانوں کے لئے تھی تا کہ ہم بزرگوں کا مقام پہچانیں اور ان کے احترام کو قائم رکھیں۔جناب عبد الرحمن صاحب ایم اے الہبی پارک لاہور کا بیان ہے کہ انہیں حضرت حافظ صاحب نے مسٹر بشیر آرچرڈ صاحب سے ملاقات کا یہ واقعہ خود سنایا تھا کہ آرچرڈ صاحب نے حضرت حافظ صاحب سے متعدد بار اس تشویش کا اظہار کیا کہ اگر خدا تعالیٰ فی الواقع ہے اور وہ اپنے بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے تو پھر وہ مجھ سے ہمکلام کیوں نہیں ہوتا؟ میں بھی تو اس کا بندہ ہوں اور اس کا کلام سننے کا خواہشمند ہوں۔جب میں نے اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لئے اپنا سب کچھ تیاگ ( ترک کرنا، چھوڑ نا ) کر دین اسلام کو قبول کر لیا ہے تو پھر میری یہ خواہش کیوں پوری نہیں ہوتی۔33 حضرت حافظ صاحب فرماتے تھے یہ ایک بڑا نازک مرحلہ تھا۔اس مسئلہ کا دلائل سے حل کرنا اور اس کا ایک یورپین دماغ کے لئے موجب اطمینان ہونا بہت دشوار تھا۔خصوصاً اس کا عملی ثبوت بہم پہنچانا کوئی اختیاری معاملہ نہ تھا۔ایک روز حضرت حافظ صاحب اس وجہ سے کچھ فکر مند تھے کہ آرچرڈ صاحب آگئے اور آپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کیا خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ بولتا ہے؟ حافظ صاحب نے فرمایا۔ہاں۔بولتا ہے کہنے لگے مجھ سے تو نہیں بولتا۔میں کس طرح سمجھوں کہ یہ بات درست ہے۔اس موقع پر حافظ صاحب کو ایک پر حکمت تجویز سوجھی۔آپ نے فرمایا دیکھئے شاہ انگلستان کو چٹھی لکھئے کہ میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں لہذا جلد از جلد تشریف لائیے اور مجھے اپنی ملاقات سے مشرف کیجئے۔میں آپ سے ملنے کے لئے بہت بے تاب ہوں۔یہ سن کر آرچرڈ صاحب گھبر اسے گئے اور کہنے لگے۔نہیں نہیں۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے وہ تو ایک