تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 272
تاریخ احمدیت۔جلد 25 272 سال 1969ء جوانمردی سے مقابلہ کیا۔کئی سکھ ہلاک کئے مگر چونکہ وہ مقابلہ میں بہت زیادہ تھے اس لئے آپ کے چاروں جوان بیٹے چار جوان پوتے دس پوتے پوتیاں کل اٹھارہ افراد خاندان وہاں شہید ہو گئے۔آپ بچ گئے اور قادیان پہنچ گئے۔(حضرت) مرزا ناصر احمد صاحب ان دنوں قافلوں کے انچارج تھے۔انہوں نے آپ کو لاہور بھجوا دیا۔آپ صدمہ کی وجہ سے ذہنی مریض ہو گئے چنانچہ مینٹل ہسپتال میں آپ کا علاج ہوتا رہا۔کچھ عرصہ بعد آپ کو صحت ہو گئی اور ربوہ آگئے۔آپ کافی عرصہ اعصابی مرض میں مبتلا رہے۔حضرت خلیفہ اُسیح الثانی نے از راہ شفقت آپ کی خدمت کے لئے ایک خادم رحیم بخش صاحب کو مقرر کیا ہوا تھا۔جنہوں نے آپ کی بہت خدمت کی۔جب تک آپ کی ٹانگوں میں جان رہی مکرم چوہدری عبدالواحد صاحب بی۔اے و دیا تھی کے پاس تشریف لاتے رہے اور حضور انور کی خدمت میں دعا کے لئے چٹھیاں لکھواتے۔حکیم محمد موہیل صاحب ولد محمد لقمان صاحب (وفات: ۲۵ دسمبر ۱۹۶۹ء) حکیم محمد موبیل صاحب صدر جماعت احمد یہ کمال ڈیرہ ضلع نواب شاہ سندھ تھے۔کمال ڈیرہ علاقہ سندھ کا وہ قصبہ ہے جہاں سب سے اول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی حضرت میاں محمد رمضان صاحب کی بیعت کے ذریعہ احمدیت قائم ہوئی۔آپ نے قادیان جا کر ۱۸۹۸ء میں بیعت کا شرف حاصل کیا تھا۔محترم حکیم صاحب حضرت میاں محمد رمضان صاحب کے نواسے تھے۔آپ نہایت بے باک مبلغ ہونے کے ساتھ ساتھ نمازوں کو پابندی کے ساتھ بجالاتے اور اسلامی شعار پر قائم رہتے تھے۔حضور علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ بھی کرتے نیز آپ کے مضامین بھی سندھی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے تھے اور بعض تبلیغی ٹریکٹ بھی آپ نے شائع کئے۔مرکز کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔قریبا ہر سال جلسہ سالانہ میں شامل ہوتے۔مرحوم موصی تھے بر وقت جنازہ ربوہ پہنچانے کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے امانتا دفن کیا گیا تھا۔بعد میں ۲۹ جنوری ۱۹۷۱ء کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کیا گیا۔ماسٹر رانا محمد بخش صاحب (وفات: ۲۵ دسمبر ۱۹۶۹ء) 144 تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے سینئر ٹیچر تھے۔ایک لمبا عرصہ اس مرکزی ادارہ میں پڑھانے