تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 273 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 273

تاریخ احمدیت۔جلد 25 273 سال 1969ء کے باعث آپ کے شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ تھا۔آپ کے شاگرد ہمیشہ آپ کو ایک ہمدرد اور بے تکلف دوست کی طرح ملتے تھے۔بہت جوشیلے، صاف باطن اور دینی غیرت رکھنے والے انسان تھے۔اگر دو دوستوں میں شکر رنجی دیکھتے تو اپنی گرہ سے کچھ خرچ کر کے بھی ان میں صلح کروا دیتے۔اپنے دوستوں سے تعلقات اخوت کو آخر دم تک نبھایا۔چوہدری بقاء اللہ صاحب المعروف بگا صاحب (وفات: ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء) آپ جماعت احمد یہ گوئی ( آزاد کشمیر) کے ایک بزرگ اور مخلص احمدی تھے۔آپ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔احمدیت کے شیدائی تھے۔آپ نے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں تحریری طور پر آپ علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔پھر حضرت خلیفتہ ایسی الاول کے ہاتھ پر قادیان جا کر بیعت کی۔اسی طرح خلافت ثانیہ کے دور میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔سلسلہ کی خاطر ہر قسم کی قربانی پر کمر بستہ رہتے تھے۔تقریبا استی سال کی عمر میں وفات پائی۔صاحبزادہ سیف الرحمن صاحب بازید خیل ضلع پشاور ( وفات ۲۹،۲۸ نومبر ۱۹۶۹ء) موضع بازید خیل کا ایک حصہ عید گاہ کہلاتا ہے اسی جگہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کابل طالب علمی کے زمانہ میں قیام فرما رہے ہیں۔یہیں صاحبزادوں کا ایک قدیم اور معزز علمی خاندان آباد ہے۔صاحبزادہ سیف الرحمن صاحب اسی معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔آپ نے خلافت اولی میں احمدیت قبول کی۔۱۹۴۰ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی بیعت کر کے خلافت سے وابستہ ہو گئے جس کے نتیجہ میں آپ کا خاندان جو پہلے غیر مبائعین میں شامل ہو گیا تھا نظام خلافت کی آغوش میں آ گیا۔آپ دعا گو اور فدائی احمدی تھے۔بعد میں آئے مگر بہتوں سے آگے نکل گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام، قادیان دار الامان اور حضرت مصلح موعود سے اس قد روالہانہ محبت اور عشق تھا کہ ان کے ذکر پر تڑپ اٹھتے اور بے ساختہ رو پڑتے تھے جس سے ملاقات کرنے والوں پر بھی عجیب کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔حضرت خلیفہ اول کی محبت بھری باتیں بیان کر کے خود روتے اور دوسروں کو رلا دیتے تھے۔147